تہران۔7جنوری (اے پی پی):ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے احتجاج کے غلط استعمال سے خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ریاست کسی بھی قسم کی افراتفری پر سختی سے نمٹے گی۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاج حق پر مبنی ہیں اور پارلیمنٹ اور حکومت کا ان کی بات سننا ایک …
احتجاج کی آڑ میں افراتفری پھیلانے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا،ایرانی حکام

مزید خبریں
تہران۔7جنوری (اے پی پی):ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے احتجاج کے غلط استعمال سے خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ریاست کسی بھی قسم کی افراتفری پر سختی سے نمٹے گی۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاج حق پر مبنی ہیں اور پارلیمنٹ اور حکومت کا ان کی بات سننا ایک جائز حق ہے،تاہم انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ تاجروں کے مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے جب بیرونی سطح پر ایسی سرگرمیاں بھی جاری تھیں جن کا مقصد اندرونی حالات سے فائدہ اٹھانا تھا۔
انہوں نے بعض بیرونی عناصر پر الزام عائد کیا کہ وہ ان احتجاج کو استعمال کرکے منظم انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین کے شعور اور عوام کی بڑی تعداد کے شریک نہ ہونے کی وجہ سے یہ احتجاج بڑے پیمانے پر پھیل نہ سکے۔اسی تناظر میں ابراہیم عزیزی نے زور دیا کہ عوام کی اکثریت کا احتجاج میں شریک نہ ہونا اس بات کی علامت نہیں کہ وہ بعض حکام کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔انہوں نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ایسے بیانات سے گریز کریں جو کشیدگی کو ہوا دیں یا سیاسی تقسیم کو گہرا کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ناقص کارکردگی کے ذمہ دار حکام اور اداروں کا احتساب ضروری ہے۔ دوسری جانب ایرانی مجلس دفاع کی سیکرٹریٹ نے ایک بیان میں ملک کے خلاف دھمکی آمیز اور مداخلت پسند بیانات کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بیان بالواسطہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ان دھمکیوں کی طرف اشارہ تھا جن میں انہوں نے مظاہرین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مداخلت کی بات کی تھی۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ملک کی سلامتی اور خودمختاری ایک ایسی ریڈ لائن ہے جسے کسی صورت عبور نہیں کیا جاسکتا اور کسی بھی جارحیت یا مخاصمانہ رویے کا مناسب اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔








