احتساب کا عمل لازمی طور پر شفاف ہونا چاہیے، وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی کی پریس کانفرنس

پشاور۔ 11 دسمبر (اے پی پی):پاکستان کے وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی نے کہا ہے کہ احتساب کا عمل شفافیت پر مبنی ہونا چاہیے اور ان کا ادارہ غریب شہریوں، یتیموں اور بیواؤں کے مسائل بلا معاوضہ حل کرنے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔وفاقی محتسب سیکرٹریٹ ریجنل آفس پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعجاز احمد قریشی نے کہا کہ احتساب کا عمل لازمی طور پر …

پشاور۔ 11 دسمبر (اے پی پی):پاکستان کے وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی نے کہا ہے کہ احتساب کا عمل شفافیت پر مبنی ہونا چاہیے اور ان کا ادارہ غریب شہریوں، یتیموں اور بیواؤں کے مسائل بلا معاوضہ حل کرنے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔وفاقی محتسب سیکرٹریٹ ریجنل آفس پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعجاز احمد قریشی نے کہا کہ احتساب کا عمل لازمی طور پر شفاف ہونا چاہیے اور عدالتوں میں زیر التوا کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جانا چاہیے تاکہ سائلین کو ریلیف مل سکے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی محتسب کا ادارہ غریب شہریوں، یتیموں اور بیواؤں کے مسائل تیزی سے اور بغیر کسی خرچ کے حل کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

اعجاز احمد قریشی نے کہا کہ پشاور پہنچتے ہی وہ اپنے دوستوں سے مل کر ان کا شکریہ ادا کرنا اور انہیں بتانا چاہتے تھے کہ ان کے تعاون سے ادارے کو کتنا فائدہ ہوا ہےانہوں نے کہا کہ یہ فائدہ صرف ادارے کے لیے نہیں بلکہ اُن لوگوں کے لیے بھی ہے جو عام اور غریب شہری، خواتین، مرد، بیوائیں اور یتیم بچے ہیں—جنہیں پنشن نہیں ملتی، انشورنس کلیمز نہیں ملتے یا بینکوں میں رکی ہوئی رقم کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہےانہوں نے کہا کہ عدالتوں میں کیسز میں وقت بھی لگتا ہے اور اخراجات بھی آتے ہیں، جبکہ ان کے ادارے نے کوشش کی ہے کہ ہر شخص کو بروقت اور بلا معاوضہ انصاف فراہم کیا جائےاعجاز قریشی نے کہا کہ ایسے علاقوں میں جہاں ان کے ادارے کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔

انہوں نے جرگہ سسٹم کے ذریعے مسائل حل کیے ہیں اور سالانہ تقریباً 6,000 فیصلے کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جہاں ادارے کا اختیار نہیں ہوتا، وہاں بھی وہ فریقین کو باہمی تصفیے تک پہنچانے میں مدد کرتے ہیں، جس میں نہ اخراجات آتے ہیں اور نہ طویل تاخیر ہوتی ہے۔ تنازعات دو سے تین ماہ میں حل ہو جاتے ہیں جبکہ ان کا سرکاری ہدف 60 دن ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی چار سالہ مدت اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے اور انہوں نے تمام متعلقہ افراد اور ریجنل آفس کے تعاون کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔پہنچنے پر، انہیں فیڈرل محتسب سیکرٹریٹ ریجنل آفس پشاور کے حکام نے گرمجوشی سے خوش آمدید کہا۔انہیں دفتر کے معاملات اور کیسز میں پیش رفت پر بریفنگ دی گئی، جبکہ وفاقی محتسب نے ریجنل آفس کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔

انہوں نے عملے کو ہدایت کی کہ تمام دستیاب وسائل اور پیشہ ورانہ مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے سائلین کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی محتسب اعجاز قریشی نے کہا کہ نیب اوراینٹی کرپشن مؤثر ہوں تو محتسب کے بوجھ میں کمی آئے۔ ادارے کی کارکردگی بہتر ہے، مجموعی طور پر ڈھائی لاکھ سے زائد شکایات موصول ہوئیں، گزشتہ سال 2 لاکھ 26 ہزار شکایات درج ہوئیں۔

اعجاز قریشی نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں نئے دفاتر قائم کئے گئے، گھر بیٹھے عوام کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، ڈھائی لاکھ شکایات عدالتوں میں جاتیں تو خرچہ اور وقت زیادہ لگتاوفاقی محتسب نے کہا کہ عدالتوں میں ایک کیس جانےسے متاثرہ فریق مزید مشکلات میں پڑ جاتا ہے، جرگہ سسٹم کے تحت بھی متعدد فیصلے کئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ چار دفاتر سے بڑھ کر 26 دفاتر قائم ہوگئے، ماہانہ کیسز 60 سے بڑھ کر 200 سے زائد ہوگئے، 95 فیصد کیسز پرعمل درآمد مکمل ہوچکا ہے۔اعجاز قریشی کا کہنا تھا کہ واپڈا کی 12 ڈسٹری بیوشنز میں کیسز ہائی کورٹ چلے جاتے ہیں، اوورسیز پاکستانیوں کی ایک لاکھ سے زائد شکایات موصول ہوئیں۔وفاقی محتسب نے کہا کہ 600 سے 700 بچوں کے لئے خصوصی ڈیسک قائم کیا گیا ہے۔

 

مزید خبریں