ارجنٹائن کی فٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ لیونل سکالونی نے 23ویں فیفا ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف آخری لمحات میں حاصل ہونے والی شاندار فتح کا سہرا دباؤ میں ٹیم کے بہترین عزم اور حوصلے کے سر باندھا ہے۔
ارجنٹائن کے ہیڈ کوچ لیونل سکالونی کی سیمی فائنل میں کامیابی کے بعد کھلاڑیوں کے جذبے اور عزم کی تعریف

مزید خبریں
اٹلانٹا۔16جولائی (اے پی پی):ارجنٹائن کی فٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ لیونل سکالونی نے 23ویں فیفا ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف آخری لمحات میں حاصل ہونے والی شاندار فتح کا سہرا دباؤ میں ٹیم کے بہترین عزم اور حوصلے کے سر باندھا ہے۔ شنہوا کے مطابق فیفا ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میچ کے سنسنی خیز مقابلے میں انگلینڈ نے 55 ویں منٹ میں انتھونی گورڈن کے گول کے ذریعے برتری حاصل کی تھی جس کے بعد ارجنٹائن کے اینزو فرنانڈیز نے 85 ویں منٹ میں ایک گول کر کے مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیااور پھر لاؤتارو مارٹنیز نے انجری ٹائم میں گول کر کے دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کو اتوار کو سپین کے خلاف ہونے والے فائنل میں پہنچا دیا۔ میچ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکالونی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ ٹیم اس وقت اپنا بہترین کھیل پیش کرتی ہے جب اسے مشکلات کا سامنا ہو، ہمارے سامنے ایک چیلنجنگ صورتحال تھی اور ہم نے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم نے میچ میں واپسی کی وہ حکمت عملی سے کہیں بڑھ کر تھا اور جب ہم نے دوسرا گول کیا تو ہمیں اپنے بچپن کا فٹ بال یاد آگیا۔یہ اس ورلڈ کپ میں مسلسل چوتھا میچ تھا جسے ارجنٹائن نے دوسرے ہاف کے سٹاپج ٹائم یا اضافی وقت میں گول کر کے جیتا، اس سے قبل البی سیلیسٹی کو کیپ ورڈی اور سوئٹزرلینڈ کو ہرانے کے لیے اضافی وقت جبکہ مصر کو شکست دینے کے لیے سٹاپج ٹائم کے گول کی ضرورت پڑی تھی۔ 48 سالہ سکالونی نے کھلاڑیوں کے مزاج اور جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیم ضدی ہے، ان کی تربیت ایسے ماحول میں ہوئی ہے جہاں وہ کسی چیز سے نہیں ڈرتے اور اپنے کندھوں پر دباؤ محسوس نہیں کرتے۔ انہوں نے 39 سالہ کپتان لیونل میسی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ لیونل میسی نے میچ کے اختتامی لمحات میں ہر موقع پر گیند حاصل کرنے کی کوشش کی اور جب آپ اس طرح کی لگن اور عزم دیکھتے ہیں تو لگتا ہے کہ وہ اسی طرح کھیل رہے ہیں جیسے وہ سات یا آٹھ سال کی عمر میں کھیلتے تھے، وہ فائنل کا سوچے بغیر صرف فٹ بال کے لیے کھیل رہے تھے۔ انہوں نے ٹورنامنٹ کے بعد اپنے مستقبل کے بارے میں واضح بات نہیں کی تاہم یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ بطور ورلڈ چیمپئن رخصت ہونا پسند کریں گے اور اب ان کی تمام تر توجہ نیویارک نیو جرسی سٹیڈیم میں سپین کے خلاف ہونے والے بڑے فائنل پر مرکوز ہے۔








