اردن کے فضائی حملوں کے بعد شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

شام نے اردن کے فضائی حملوں کے بعد سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر دونوں ممالک کے درمیان نصیب سرحدی گزرگاہ مسافروں اور تجارتی سامان کی آمدورفت کے لیے عارضی طور پر بند کر دی ہے۔تاس کے مطابق شام کی جنرل اتھارٹی برائے سرحدی امور و کسٹمز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ صوبہ درعا کی صورتحال کے باعث سرحدی گزرگاہ بند کرنے کا فیصلہ …

بیروت ۔27اکتوبر (اے پی پی):شام نے اردن کے فضائی حملوں کے بعد سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر دونوں ممالک کے درمیان نصیب سرحدی گزرگاہ مسافروں اور تجارتی سامان کی آمدورفت کے لیے عارضی طور پر بند کر دی ہے۔تاس کے مطابق شام کی جنرل اتھارٹی برائے سرحدی امور و کسٹمز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ صوبہ درعا کی صورتحال کے باعث سرحدی گزرگاہ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق مسافروں اور سرحدی عملے کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے دونوں سمتوں میں مسافروں اور تجارتی سامان کی آمدورفت معطل کر دی گئی ہے۔

اس سے قبل شامی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ اس نے اردن کو سرحدی گزرگاہ بند کرنے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔ وزارت نے اردن کی جانب سے شام میں فوجی کارروائیوں کے لیے پیشگی رابطہ نہ کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے درعا میں فضائی حملوں کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا۔

رپورٹ کے مطابق اردن کی فضائیہ نے 26 اکتوبر کو جنوبی شام میں فضائی حملے کیے تھے، جن میں مبینہ طور پر ان انتہا پسند گروہوں کو نشانہ بنایا گیا جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ اردن کے صوبہ الکرک میں سینٹ جارج آرتھوڈوکس چرچ پر حالیہ حملے کے ذمہ دار دہشت گردوں سے منسلک تھے۔اردن کی وزارت صحت کے مطابق 23 اکتوبر کو چرچ پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں 9 افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوئے تھے۔

C:mry/R:mry