ارشد شریف قتل کیس، وفاقی آئینی عدالت نے سوموٹو کیس نمٹا دیا، عدالتی مداخلت سے انکار

اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے معروف صحافی ارشد شریف کے قتل سے متعلق ازخود نوٹس (سوموٹو کیس نمبر 3 آف 2022) نمٹاتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پاکستان اور کینیا کی حکومتیں اس معاملے پر اپنے اپنے قوانین کے تحت مناسب اقدامات اٹھا رہی ہیں، لہٰذا اس مرحلے پر کسی عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس عامر …

اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے معروف صحافی ارشد شریف کے قتل سے متعلق ازخود نوٹس (سوموٹو کیس نمبر 3 آف 2022) نمٹاتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پاکستان اور کینیا کی حکومتیں اس معاملے پر اپنے اپنے قوانین کے تحت مناسب اقدامات اٹھا رہی ہیں، لہٰذا اس مرحلے پر کسی عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان باریچ پر مشتمل بینچ نے 14 جنوری 2026 کو محفوظ کیا گیا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات اب باہمی قانونی معاونت (ایم ایل اے) کے تحت آگے بڑھ رہی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا باقاعدہ فریم ورک موجود ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ارشد شریف 23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے علاقے کاجیاڈو میں کینین جنرل سروس یونٹ (GSU) اہلکاروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوئے تھے۔

واقعے کے بعد پاکستان کی وفاقی حکومت نے خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (SJIT) تشکیل دی، جس نے تفصیلی تحقیقات مکمل کیں اور کینیا و متحدہ عرب امارات سمیت متعلقہ اداروں سے رابطے کیے۔ عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ ایس جے آئی ٹی کی تحقیقات، وزارتِ خارجہ کی سفارتی کوششیں، پاکستان اور کینیا کے درمیان ایم ایل اے معاہدے پر دستخط، وزیر اعظم پاکستان اور صدر کینیا کے درمیان رابطے اور ملزمان کے خلاف بلیک وارنٹس کا اجرا اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی سطح پر معاملہ سنجیدگی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات ہر شہری کا حق ہے، تاہم تحقیقات کی نگرانی یا مسلسل عدالتی مداخلت عدالتی نظائر اور قانون کے منافی ہے۔ عدالت نے ماضی کے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تفتیشی عمل کی نگرانی پولیس اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے

عدالتیں صرف غیر معمولی حالات میں مداخلت کر سکتی ہیں۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ چونکہ ایم ایل اے کے تحت تحقیقات جاری ہیں، اس لیے اس مرحلے پر بین الاقوامی فورمز سے رجوع کرنے یا حکومت کو اس حوالے سے عدالتی احکامات دینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی معاملات وفاقی حکومت اور وزارتِ خارجہ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل پر صحافتی برادری اور پوری قوم کے غم اور دکھ کو عدالت سمجھتی ہے، تاہم موجودہ حالات میں قانونی عمل کو اس کے فطری راستے پر چلنے دیا جانا ضروری ہے۔ عدالت نے سوموٹو کیس کے ساتھ ساتھ تمام زیر التواء درخواستیں نمٹاتے ہوئے واضح کیا کہ اگر ارشد شریف کے ورثا کو تحقیقات یا کسی اور قانونی پہلو پر کوئی اعتراض یا شکایت ہو تو وہ متعلقہ فورمز اور مجاز عدالتوں سے رجوع کرنے کا مکمل حق رکھتے ہیں۔

مزید خبریں