استعفے دینا اپوزیشن کا جمہوری حق ہے، کسی کو روک نہیں سکتے، حکومت اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں آئے گی اور نہ ہی ایسی صورتحال میں ان کے ساتھ مذاکرات کرے گی، وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز

اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ استعفے دینا اپوزیشن کا جمہوری حق ہے، کسی کو روک نہیں سکتے، ہم نے بھی 2014ءمیں استعفے دیئے تھے، ہر جماعت کا اپنا ایجنڈا ہے اسلئے ساری جماعتیں استعفوں پر متفق نہیں ہوں گے، پہلے یہ خود اتفاق پیدا کر لیں، دیکھتے ہیں کہ کتنے لوگ استعفے دیتے ہیں، حکومت اپوزیشن کی بلیک …

اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ استعفے دینا اپوزیشن کا جمہوری حق ہے، کسی کو روک نہیں سکتے، ہم نے بھی 2014ءمیں استعفے دیئے تھے، ہر جماعت کا اپنا ایجنڈا ہے اسلئے ساری جماعتیں استعفوں پر متفق نہیں ہوں گے، پہلے یہ خود اتفاق پیدا کر لیں، دیکھتے ہیں کہ کتنے لوگ استعفے دیتے ہیں، حکومت اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں آئے گی اور نہ ہی ایسی صورتحال میں ان کے ساتھ مذاکرات کرے گی، پہلے یہ جلسے کرنا بند کر دیں پھر انہیں اینگیج کرنے کے بارے سوچیں گے۔ پیر کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) ذاتی مفادات کو تحفظ دینے اور مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے حکومت پر دبائو ڈالنے کیلئے بلیک میلنگ حربے استعمال کر رہی ہے لیکن ہم ان کی بلیک میلنگ میں آنے والے نہیں ہیں، استعفے دینا اور انتخابات لڑنا آسان کام نہیں ہے، یہ لوگ تو پہلے کہہ رہے تھے کہ 8 دسمبر کو ہم استعفے دے دیں گے لیکن انہوں نے تو ابھی تک فیصلہ ہی نہیں کیا۔ شبلی فراز نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور آئینی ذمہ داری بھی، اپوزیشن عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے پر تلی ہوئی ہے تاکہ حکومت پر دبائو بڑھا سکیں، ہم اخلاقی اور قانونی طور پر صحیح کھڑے ہیں اور بلیک میلنگ صورتحال میں کسی کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اخلاقی قوت اور عوام کا مینڈیٹ ہے، حکومتی ٹیم صحیح وقت پر ان کے ساتھ رابطہ کر سکتی ہے لیکن سب سے پہلے اپوزیشن جماعتیں جلسے جلوس منسوخ کریں اور عوام کی جانوں کی حفاظت کا ثبوت دیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے عوام کیلئے کینسر ہسپتال اور یونیورسٹی بنائی، مریم نواز منتخب ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی سیاسی جدوجہد ہے، عدالتوں نے نواز شریف کو قانونی طور پر مجرم اور اشتہاری قرار دیا ہے تو کیا اب ان کی اولادیں ہمیں ڈکٹیٹ کریں گی؟ ہمارے پاس عوامی اور اخلاقی قوت ہے، ہم حکومت جانے کے خوف سے کسی کو استعفے دینے سے نہیں روکیں گے۔