اسرائیلی اپوزیشن رہنما نے غزہ کو 8 سال تک مصر کے زیر کنٹرول کرنے کی تجویز پیش کر دی

مقبوضہ بیت المقدس۔26فروری (اے پی پی):اسرائیل کے اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ نےتجویز پیش کی ہےکہ غزہ کی پٹی 8 سال کے لیے مصر کے کنٹرول میں دے دی جائے اور اس کے بدلے مصر کو قرضوں کے معاملے میں بھاری ریلیف دیا جائے،مسئلے کا حل یہی ہے کہ مصر غزہ کی پٹی کی انتظامی ذمہ داری قبول کرے، یہ مدت کم از کم 8 سال تک ہونی چاہیے جسے بڑھا …

مقبوضہ بیت المقدس۔26فروری (اے پی پی):اسرائیل کے اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ نےتجویز پیش کی ہےکہ غزہ کی پٹی 8 سال کے لیے مصر کے کنٹرول میں دے دی جائے اور اس کے بدلے مصر کو قرضوں کے معاملے میں بھاری ریلیف دیا جائے،مسئلے کا حل یہی ہے کہ مصر غزہ کی پٹی کی انتظامی ذمہ داری قبول کرے، یہ مدت کم از کم 8 سال تک ہونی چاہیے جسے بڑھا کر 15 سال بھی کیا جا سکتا ہے۔

العربیہ اردو کے مطابق یہ بات انہوں نے اسرائیل کے انتہا پسندوں کے دفاعی فورم فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسی (ایف ڈی ڈی) نامی تھنک ٹینک سے واشنگٹن میں گفتگو کے دوران کہی،تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس تجویز کے بعد امریکی منصوبے کے مطابق غزہ کے لاکھوں فلسطینیوں کو مصر منتقل کرنے کا کیا معاملہ رہے گا، آیا مصر فلسطینیوں پر غزہ کے اندر ہی حکمرانی کرے گا یا انہیں اپنے ہاں بھی منتقل کر سکے گا، البتہ یہ بات پہلی مرتبہ سامنے آئی کہ اس خدمت کے بدلے مصر کو بین الاقوامی برادری اور علاقائی اتحادیوں کی طرف سے قرضوں کی ادائیگی میں کافی ریلیف دیا جائے گا۔

سابق اسرائیلی وزیر اعظم اور موجودہ اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے کہا مصر ایک امن فورس کے طور پر کام کرے گا جو خلیجی ممالک اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے اپنا کردار دا کرے گی، اس دوران غزہ کی تعمیر نو اور انتظام کا عمل آگے بڑھے گا۔نیز اس دوران ایسی صورتحال پیدا کی جائے کی کہ غزہ کے لوگوں کے لیے حکومت خود اختیاری کا عمل آگے بڑھایا اور غزہ کو مکمل طور پر غیر فوجی علاقہ بنا دیا جائے گا۔

مزید خبریں