اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ بدتر سلوک شروع کردیا گیاہے، قدورہ فارس

رام اللہ۔21اکتوبر (اے پی پی):فلسطینی قیدیوں کے امور کی اتھارٹی کے سربراہ قدورہ فارس نے کہا ہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر کو غزہ پر جنگ کے آغاز کے بعد سے فلسطینی قیدیوں کے خلاف من مانی اور تعزیری اقدامات نافذ کردیے ہیں۔ سعودی خبررساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہاکہ قیدیوں کے ساتھ ایسا بدتر سلوک کیا جارہا ہے کہ اس کی مثال 1967 کے بعد سے کبھی اسرائیلوں …

رام اللہ۔21اکتوبر (اے پی پی):فلسطینی قیدیوں کے امور کی اتھارٹی کے سربراہ قدورہ فارس نے کہا ہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر کو غزہ پر جنگ کے آغاز کے بعد سے فلسطینی قیدیوں کے خلاف من مانی اور تعزیری اقدامات نافذ کردیے ہیں۔ سعودی خبررساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہاکہ قیدیوں کے ساتھ ایسا بدتر سلوک کیا جارہا ہے کہ اس کی مثال 1967 کے بعد سے کبھی اسرائیلوں میں نہیں دیکھی گئی ۔

قدورہ فارس نے عرب ذرائع ابلاغ کو اپنے بیانات میں کہا کہ قیدیوں سے بدتر سلوک اسرائیلی فوج کی کمان کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے کیا جارہا۔ انہوں نے حماس حملے کے بعد قیدیوں کو درپیش سنگین صورتحال سے خبردار کیا۔انہوں نے کہا کہ جنگ کے پہلے دن سے ہی اسرائیلی جیلوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کردیا گیا تھا۔ اسرائیلی حکام نے قیدیوں کو ان کے کمروں اور سیلوں میں بند کر دیا اور انہیں باہر جانے کی اجازت نہیں دی جارہی۔

قدورہ نے کہا اسرائیل نے جیمنگ ڈیوائسز کو بڑھانے، دوروں کو روکنے، قیدیوں کے حصوں سے وقتاً فوقتاً بجلی اور پانی منقطع کرنے، سیکشنز سے کھانے کی سپلائی واپس لینے، کھانے کی مقدار کو کم کرنے اور قیدیوں کو جیل کے صحن میں بھی جانے سے روکنے جیسے انسانیت سوز اقدامات کرنا شروع کردیے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ جیل انتظامیہ نے پھر روزانہ ایک نیا طریقہ کار شامل کرنا شروع کیا اور قیدیوں کو دستیاب بجلی اور پانی کی سہولت بھی منقطع کردی۔ اس کے بعد جسمانی حملوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ جیل میں مسلسل اشتعال انگیز کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔

اسرائیلی اہلکار بار بار معائنہ کرنے کے بہانے بھی فلسطینی قیدیوں کو تنگ کر رہے ہیں۔قیدیوں کے امور کی اتھارٹی کے سربراہ نے بتایا کہ ان اقدامات کا مقصد اشتعال انگیزی پیدا کرنا اور قیدیوں کو ان پر جبر کرنے کے لیے کسی بھی رد عمل پر آمادہ کرنا ہے۔

اسی تناظر میں اسرائیلی جیل اہلکار قیدیوں کے کپڑوں اور کمبلوں اور دیگر اشیا کو ضبط کرنا شروع ہوگئے ہیں،قیدیوں کو اب ادویات بھی دستیاب نہیں جس سے مستقل بنیادوں پر قیدیوں کی صحت خراب ہو رہی ہے، ان کی نفسیاتی اور جسمانی حالت بھی متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایسے قیدی بھی ہیں جن کے اعضا ان اسرائیلی اقدامات کے نتیجے میں ٹوٹ گئے تھے، ساتھ ہی ان کے علاج سے بھی انکار کردیا گیا۔ اسرائیل کی جیلوں میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ 1967 سے نہیں ہوا اور یہ ایک جنگی جرم کی نمائندگی کرتا ہے۔فارس نے وضاحت کی کہ 7 اکتوبر سے اب تک انتظامی حراست میں لیے گئے فلسطینیوں کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

ان گرفتاریوں کا مقصد بدلہ لینا اور فلسطینی عوام سے آپریشن ’’ طوفان الاقصیٰ‘‘ کی قیمت وصول کرنا ہے۔ قدورہ فارس نے کہا کہ وکلاء کو بھی عدالتوں کے اندر پابندیوں اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انتظامی نظربندوں کے لیے مقرر کردہ تمام اپیلوں کی سماعت ملتوی کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں جن کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ان کی تعداد تقریباً 4,000 بتائی گئی ہے لیکن اسرائیل نے ان کی تعداد اور انہیں جن جیلوں میں منتقل کیا گیا ہے اس حوالے سے کسی بین الاقوامی ادارے کو کوئی معلومات یا ڈیٹا فراہم نہیں کیا۔