اسرائیلی حکام نے مغربی کنارے کے علاقے رام اللہ جانے والے یونانی ٹریڈ یونین کے نمائندوں کے وفد کو گرفتار کر کے کئی گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد ملک بدر کر دیا ۔ یونانی اور فلسطینی حکام نے اس اسرائیلی اقدام کی مذمت کی ہے
اسرائیلی حکام نے رام اللہ جانے والے یونانی ٹریڈ یونین کے وفد کو گرفتار کر کے کئی گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد ملک بدر کر دیا ، یونان اور فلسطین کی مذمت

مزید خبریں
رام اللہ ۔22جون (اے پی پی):اسرائیلی حکام نے مغربی کنارے کے علاقے رام اللہ جانے والے یونانی ٹریڈ یونین کے نمائندوں کے وفد کو گرفتار کر کے کئی گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد ملک بدر کر دیا ۔ یونانی اور فلسطینی حکام نے اس اسرائیلی اقدام کی مذمت کی ہے۔الجزیرہ کے مطابق یونان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ یونانی وفد فلسطینی جنرل فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز کی دعوت پر رام اللہ جا رہا تھا اور اسے اسرائیلی حکام کی جانب سے یونانی شہریوں کو مغربی کنارے میں داخل ہو نے کی اجازت دینے سے انکار اور انہیں ملک بدر کرنے پر تشویش لاحق ہے ۔یونانی حکومت نے کہا کہ وفد کے ارکان نے رام اللہ جانے کے تمام تقاضے پورے کر لیے تھے اور اسرائیلی حکام کو اپنے دورے کے مقصد سے بھی آگاہ کیا تھا۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے بھی بیان میں اس اسرائیلی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے من مانی اور غیر قانونی اقدام قرار دیا جو بین الاقوامی قانون اور ٹریڈ یونین کی آزادیوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ اس میں کہا گیا کہ وفد کے ارکان سے پوچھ گچھ کی گئی، انہیں کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھا گیا اور پھر ملک بدر کر دیا گیا۔فلسطینی وزارت خارجہ نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ بین الاقوامی وفود کو اپنے زیر کنٹرول علاقوں کے حالات دیکھنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ وزارت نے اس اقدام کو فلسطینیوں کو عالمی برادری سے الگ تھلگ کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ قرار دیا۔







