تل ابیب ۔16فروری (اے پی پی):اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول کو سخت کرنے اور آباد کاروں کے لیے زمین کی خریداری میں سہولت فراہم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی منظوری دے دی۔العربیہ کے مطابق اس اقدام کو فلسطینیوں نے عملی طور پر پر الحاق قرار دیا ہے۔ مغربی کنارہ ان علاقوں میں شامل ہے جہاں فلسطینی مستقبل میں ایک آزاد ریاست قائم کرنا …
اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے کی زمینوں سے متعلق متنازع پالیسی کی منظوری دے دی

مزید خبریں
تل ابیب ۔16فروری (اے پی پی):اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول کو سخت کرنے اور آباد کاروں کے لیے زمین کی خریداری میں سہولت فراہم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی منظوری دے دی۔العربیہ کے مطابق اس اقدام کو فلسطینیوں نے عملی طور پر پر الحاق قرار دیا ہے۔ مغربی کنارہ ان علاقوں میں شامل ہے جہاں فلسطینی مستقبل میں ایک آزاد ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا زیادہ تر حصہ اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہے جبکہ فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام کچھ علاقوں میں محدود فلسطینی خود مختاری ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا ماننا ہے کہ فلسطینی ریاست کا قیام اسرائیل کے لیے سکیورٹی خطرہ ہے۔ نیتن یاہو کو رواں سال کے آخر میں انتخابات کا بھی سامنا ہے۔ ان کے حکومتی اتحاد میں آباد کاری کے حامی متعدد ارکان شامل ہیں جو چاہتے ہیں کہ اسرائیل مغربی کنارے کو ضم کر لے۔ یہ وہ علاقہ ہے جس پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کر لیا تھا۔ وزراء نے آج 1967 کی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ مغربی کنارے میں زمینوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے کہا کہ ہم آباد کاری کا انقلاب جاری رکھے ہوئے ہیں اور اپنی سرزمین کے تمام حصوں پر اپنا کنٹرول مضبوط کر رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع یسرائيل کاٹز نے مغربی کنارے میں زمینوں کی رجسٹریشن کو ایک ضروری سکیورٹی اقدام قرار دیا جس کا مقصد خطے میں اسرائیلی کنٹرول کو یقینی بنانا، اسے مکمل کارروائی کی آزادی دینا اور شہریوں کے تحفظ اور قومی مفادات کے تحفظ کے مقصد سے وہاں قانون نافذ کرنا ہے۔ سکیورٹی کابینہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے زمینوں کی غیر قانونی رجسٹریشن کی کارروائیوں کا مناسب جواب ہے اور اس سے تنازعات ختم ہو جائیں گے۔فلسطینی ایوان صدر نے اسرائیلی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے مقبوضہ فلسطینی اراضی کے عملی الحاق کے مترادف اور غیر قانونی آباد کاری کے ذریعے قبضے کو مستحکم کرنے کے لیے فلسطینی اراضی کو ضم کرنے کے منصوبوں پر عمل درآمد کے آغاز کا اعلان قرار دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کو ضم کرنے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے لیکن ان کی انتظامیہ نے تیزی سے بڑھتی ہوئی آباد کاری کو روکنے کی کوشش نہیں کی ہے جس کے بارے میں فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کی زمینوں کو ہڑپ کر کے ممکنہ ریاست کے قیام سے محروم کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت، عالمی عدالت انصاف نے 2024 میں ایک غیر پابند مشاورتی رائے میں کہا تھا کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ اور وہاں بستیوں کا قیام غیر قانونی ہے اور اسے جلد از جلد ختم ہونا چاہیے۔اسرائیل اس رائے پر اعتراض کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس زمین سے اس کے تاریخی اور توراتی تعلقات ہیں۔ زمینوں کی رجسٹریشن ان اقدامات کے سلسلے کا حصہ ہے جو اسرائیل نے رواں ماہ اپنے کنٹرول کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے کیے ہیں۔








