تل ابیب۔4مارچ (اے پی پی):اسرائیلی پولیس نے محکمہ دفاع کے ہیڈکوارٹر کے باہر براہِ راست نشریات کرنے پر سی این این کے ترکیہ سے تعلق رکھنے والے2 صحافیوں کو گرفتار کر لیا ۔ اردو نیوز کے مطابق اسرائیلی پولیس نے گزشتہ روز بتایا کہ رپورٹر ایمرہ چکماک اور کیمرا مین حلیل قہرمان کو ایک حساس سکیورٹی تنصیب کی فلم بندی کے شبے میں حراست میں لیا گیا۔ عرب نیوز کے …
اسرائیلی محکمہ دفاع کے باہر براہ راست کوریج کرنے پر 2 ترک صحافی گرفتار

مزید خبریں
تل ابیب۔4مارچ (اے پی پی):اسرائیلی پولیس نے محکمہ دفاع کے ہیڈکوارٹر کے باہر براہِ راست نشریات کرنے پر سی این این کے ترکیہ سے تعلق رکھنے والے2 صحافیوں کو گرفتار کر لیا ۔ اردو نیوز کے مطابق اسرائیلی پولیس نے گزشتہ روز بتایا کہ رپورٹر ایمرہ چکماک اور کیمرا مین حلیل قہرمان کو ایک حساس سکیورٹی تنصیب کی فلم بندی کے شبے میں حراست میں لیا گیا۔ عرب نیوز کے مطابق یہ گرفتاری اُس وقت عمل میں آئی جب گزشتہ روز ایران کی جانب سے تل ابیب اور وسطی اسرائیل کے دیگر علاقوں پر ایک اور میزائل حملے کے بعد دونوں صحافی جائے وقوعہ کے قریب رپورٹنگ کر رہے تھے۔
ابتدائی اطلاعات اور آن لائن شیئر کی گئی ایک وڈیو کے مطابق براہِ راست نشریات کے دوران دو افراد، جنہیں ممکنہ طور پر فوجی قرار دیا جا رہا ہے، نے رپورٹنگ ٹیم کے قریب آکر رپورٹر کا فون ضبط کر لیا۔ اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں اطلاع موصول ہوئی تھی کہ دو افراد کیمرے کے ساتھ موجود ہیں اور مبینہ طور پر کسی غیرملکی میڈیا کے لیے براہِ راست نشریات کر رہے ہیں جنہیں تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔
ترکیہ کے ڈائریکٹوریٹ آف کمیونیکیشنز کے سربراہ برہان الدین دوران نے گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ صحافیوں کی رہائی کے لیے کام کر رہا ہے۔ اسرائیل میں فوجی سنسر کی سخت پالیسی پہلے ہی حساس مقامات یا ایسی معلومات کی اشاعت پر پابندی عائد کرتی ہے جو قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ سمجھی جائے۔
غزہ جنگ کے آغاز کے بعد ان پابندیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے، جن میں ڈیوٹی پر موجود فوجیوں اور سٹریٹجک تنصیبات کی فلم بندی پر سخت قواعد شامل ہیں








