اسرائیلی وزیر اعظم کا7 اکتوبر 2023 کے حملے کی آزادانہ تحقیقات سے مسلسل انکار ، اپوزیشن کی تنقید

تل ابیب۔23دسمبر (اے پی پی):اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو دو سال قبل سات اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے حملے کی آزادانہ تحقیقات سے مسلسل انکار کر رہے ہیں۔ اس کے بجائے وہ حکومتی کمیشن کی تقرری کے حق میں ہیں۔ جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اسرائیل میں فلسطینی گروپ کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 کو کیے گئے حملوں کی …

تل ابیب۔23دسمبر (اے پی پی):اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو دو سال قبل سات اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے حملے کی آزادانہ تحقیقات سے مسلسل انکار کر رہے ہیں۔ اس کے بجائے وہ حکومتی کمیشن کی تقرری کے حق میں ہیں۔ جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اسرائیل میں فلسطینی گروپ کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 کو کیے گئے حملوں کی آزادانہ تحقیقات کی مخالفت کر رہے ہیں۔ نیتن یاہو انکوائری کا ریاستی کمیشن قائم کرنے کے بجائے حکومتی کمیشن کی تقرری کی حمایت کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں اسرائیلی نیوز پورٹل ینیٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے ایک وزارتی کمیٹی نے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمنٹ کے کمیشن کی تشکیل کے لیے مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ اسی بل پر رواں ہفتے پارلیمنٹ میں ابتدائی ووٹنگ متوقع ہے۔اس اقدام پر ماہرین، اپوزیشن رہنماؤں اور سابق یرغمالیوں سمیت7اکتوبر کے حملوں کے متاثرین کے رشتہ داروں کی طرف سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

یہ لوگ نیتن یاہو کی حکومت پر حقائق چھپانے کا الزام لگاتے ہیں۔ناقدین نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں پر الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے سیاسی اور فوجی ناکامیوں کی ذاتی ذمہ داری قبول نہیں کی جو اسرائیل پر حملے کا سبب بنیں۔اٹارنی جنرل گیلی بہارو میارا نے ایک بیان میں کہا کہ مجوزہ بل "اہم خامیوں سے بھرا ہوا” ہے۔ اس کی وجہ سے تفتیش کاروں کے لیے 7 اکتوبر 2023 کے واقعات کی تہہ تک جانا اور قابل اعتماد نتائج اخذ کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ بل اپنی موجودہ شکل میں ایک مؤثر اور معتبر رپورٹ پیش کرنے کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔

اس کے برعکس وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اپنے دفاع میں یہ جواز پیش کیا ہے کہ ریاستی تحقیقاتی کمیشن کو عوام کی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔دوسری جانب اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپیڈ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایک آزاد ریاستی کمیشن قائم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اگلے سال نئے انتخابات کے پیش نظر کہا کہ اگر ایسا ابھی نہیں کیا گیا تو اپنی حکومت قائم ہونے کی صورت میں پہلے ہفتے میں ہی آزاد ریاستی کمیشن قائم کر دیں گے۔ ینیٹ کے مطابق ایک مقتول یرغمالی کے والد جوناتھن پولن ان لوگوں میں شامل ہیں، جنہوں نے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں ریاست اور سیاسی فیصلہ ساز اپنی تحقیقات خود نہیں کر سکتے۔ پولن کے یرغمال بیٹے کو حماس کی قید میں قتل کر دیا گیا تھا۔7اکتوبر 2023 کو ہونے والےحملوں میں تقریباً 1200 افراد مارے گئے تھے اور 250 سے زائد دیگر کو اغوا کر کے غزہ لے جایا گیا تھا۔ اس حملے کے جواب میں اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی میں فضائی حملوں اور اس کے بعد زمینی کارروائی کے ساتھ بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی تھیں۔

رواں برس اکتوبر کے اوائل سے غزہ میں ایک جنگ بندی نافذ ہے جس کی اسرائیل کی طرف سے مسلسل خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔غزہ ہیلتھ اتھارٹی کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ میں 70 ہزارسے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں جن میں بڑی تعداد خواتین ، بچوں اور معمر افراد کی ہے۔