اسرائیلی پابندیوں سے غزہ میں امدادی کارروائیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں، اقوام متحدہ اور امدادی اداروں کی وارننگ

اقوام متحدہ ۔18دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کام کرنے والے دیگر انسانی امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے فوری طور پر نئی عائد کردہ پابندیاں ختم نہ کیں تو غزہ میں جان بچانے والی امدادی سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج ہو سکتی ہیں۔انسانی امور سے متعلق کنٹری ٹیم جس میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام اور 200 سے زائد مقامی و …

اقوام متحدہ ۔18دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کام کرنے والے دیگر انسانی امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے فوری طور پر نئی عائد کردہ پابندیاں ختم نہ کیں تو غزہ میں جان بچانے والی امدادی سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج ہو سکتی ہیں۔انسانی امور سے متعلق کنٹری ٹیم جس میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام اور 200 سے زائد مقامی و بین الاقوامی امدادی تنظیمیں شامل ہیں، نے جاری بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی حکام پر دباؤ ڈالے تاکہ انسانی امداد میں رکاوٹ بننے والے اقدامات خصوصاً غزہ کی پٹی میں واپس لیے جائیں۔بیان کے مطابق تشویش کی سب سے بڑی وجہ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے لیے متعارف کرایا گیا نیا رجسٹریشن نظام ہے، جسے امدادی اداروں نے مبہم، سیاسی بنیادوں پر مبنی اور انسانی اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔

موجودہ قواعد کے تحت درجنوں تنظیموں کو دسمبر کے اختتام تک ڈی رجسٹریشن کا سامنا ہے، جس کے بعد چند ہفتوں میں ان کی سرگرمیاں بند کر دی جائیں گی۔بیان میں کہا گیا کہ یہ تنظیمیں کوئی اضافی سہولت نہیں بلکہ زندگی بچانے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ اگر انہیں نکال دیا گیا تو انسانی امدادی نظام برقرار نہیں رہ سکے گا۔بین الاقوامی این جی اوز، اقوام متحدہ اور فلسطینی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہر سال تقریباً ایک ارب ڈالر کی امداد فراہم کرتی ہیں۔ تاہم اس وقت کروڑوں ڈالر مالیت کا خوراک، ادویات، صفائی کا سامان اور پناہ گاہوں کا مواد غزہ سے باہر پھنسا ہوا ہے اور ضرورت مند خاندانوں تک نہیں پہنچ پا رہا۔یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب موسم سرما شدت اختیار کر رہا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید پابندیاں جنگ بندی کو بھی غیر مستحکم کر سکتی ہیں۔

امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی این جی اوز کے انخلا کے اثرات اقوام متحدہ یا مقامی تنظیمیں برداشت نہیں کر سکتیں، خاص طور پر اس وقت جب فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے یویان آر ڈبلیو اے پر اسرائیلی پابندیوں نے امدادی نظام کو پہلے ہی شدید دباؤ میں ڈال رکھا ہے۔کنٹری ٹیم کے مطابق غزہ میں بنیادی سہولیات کے ایک بڑے حصے کا انحصار بین الاقوامی امدادی تنظیموں پر ہے، جن میں فیلڈ ہسپتال، بنیادی صحت مراکز، صاف پانی اور صفائی کا نظام، ہنگامی پناہ گاہیں اور شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کا علاج شامل ہے۔ اگر یہ تنظیمیں نکل گئیں تو غزہ کے ہر تین میں سے ایک صحت مرکز کو فوری طور پر بند کرنا پڑے گا، جس سے ہزاروں مریض علاج سے محروم ہو جائیں گے۔

امدادی رہنماؤں نے بتایا کہ انہوں نے بارہا اسرائیلی حکام کے ساتھ یہ خدشات اٹھائے اور قابلِ عمل حل تلاش کرنے کی کوشش کی، مگر اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ بیان میں کہا گیا کہ امدادی اداروں کی بندش اب ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔بیان کے اختتام پر زور دیا گیا کہ انسانی امداد تک رسائی کوئی سیاسی انتخاب نہیں بلکہ قانونی ذمہ داری ہے۔ اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری اور بلا رکاوٹ امدادی ترسیل کی اجازت دے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ انسانی تنظیمیں آزاد اور محفوظ طریقے سے کام کر سکیں۔اداروں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو غزہ کے شہریوں کے لیے نتائج تباہ کن ہوں گے۔