مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کی ضلعی کمیٹی برائے تنظیم و تعمیرات نے ایک ایسے منصوبے کی منظوری دے دی ہے جو فلسطینی علاقے ام لیسون کے مرکز میں تقریباً 450 رہائشی یونٹس کی تعمیر کی راہ ہموار کرے گا۔
اسرائیل نےمقبوضہ بیت المقدس میں یہودیوں کے لئے 450 رہائشی یونٹس کی تعمیر کے نئے منصوبے کی منظوری دے دی

مزید خبریں
مقبوضہ بیت المقدس ۔13جولائی (اے پی پی):مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کی ضلعی کمیٹی برائے تنظیم و تعمیرات نے ایک ایسے منصوبے کی منظوری دے دی ہے جو فلسطینی علاقے ام لیسون کے مرکز میں تقریباً 450 رہائشی یونٹس کی تعمیر کی راہ ہموار کرے گا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی اسرائیلی تنظیم ’’عیر عمیم‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ ٹوپوڈیا نامی کمپنی نے یہ منصوبہ پہلی بار 2022 میں پیش کیا تھا لیکن یہ دو سال سےزیادہ عرصے تک تعطل کا شکار رہا کیونکہ ضلعی کمیٹی نے اس منصوبے کی حتمی منظوری سے قبل منصوبے کے مقام تک جانے والے راستے کو وسیع کرنے کی شرط عائد کی تھی۔کمپنی اس شرط کو پورا کرنے سے قاصر رہی کیونکہ اسے ان عوامی راستوں کو وسیع کرنے کے منصوبے پیش کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں تھا جو اس کی ملکیت میں نہیں آتے تھے۔
عیر عمیم سے جاری بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ رکاوٹ تب دور ہوئی جب مقبوضہ بیت المقدس کی قابض بلدیہ بھی اس منصوبے میں پیش کنندہ کے طور پر شامل ہو گئی ۔ اس اقدام سے راستے کی توسیع کے منصوبے کو مرکزی منصوبے میں شامل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی اور اس کے اندراج کی کارروائی میں حائل آخری رکاوٹیں ختم ہو گئیں۔ام لیسون کا علاقہ جبل المکبر اور صور باہر نامی قصبوں کے درمیان واقع ہے اور فی الحال اس میں تقریباً 800 رہائشی یونٹ موجود ہیں جن میں سے اکثر دو یا تین منزلہ عمارتیں ہیں۔ اس کے برعکس نیا منصوبہ دس منزلہ عمارتوں میں مزید 450 رہائشی یونٹس کے اضافے کا ہے جو اس علاقے کے شہری کردار اور آبادیاتی ساخت کو مکمل طور پر تبدیل کر دے گا۔
تنظیم نے مزید بتایا کہ ٹوپوڈیاکمپنی آسٹریلیا میں رجسٹرڈ ایک کمپنی کے کنٹرول میں ہے اور اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں آسٹریلوی کاروباری شخصیت کیون بورمايستر، دائیں بازو کےرہنماایہود راغونیس اور یہودی آباد کاروں کی تنظیم العاد کا سابق ترجمان شامل ہے۔بورمايستر اور راغونیس دونوں ہی مقبوضہ بیت المقدس میں دیگر یہودی بستیوں کے منصوبوں کو فروغ دینے میں بھی حصہ لیتے ہیں جن میں جبل المکبر کے اندر قائم’’نوف تسیون‘‘ یہودی بستی بھی شامل ہے۔ ٹوپوڈیا کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہ زمین ان یہودی ورثاسے خریدی ہے جنہوں نے اسے 1930 کی دہائی میں خریدا تھا اور وہ اس منصوبے کو جواز فراہم کرنے کے لیے انہی دعووں کا سہارا لے رہی ہے۔
عیر عمیم نے نشاندہی کی ہے کہ ام لیسون میں اس نئے منصوبے میں 450 رہائشی یونٹ شامل ہوں گے جو ایک فلسطینی علاقے کے مرکز میں تقریباً دو ہزار یہودی آباد کاروں کو رہائش فراہم کریں گے۔تنظیم نے اس بات پر زور دیا کہ قابض بلدیہ کا اس منصوبے میں شامل ہونا ایک سیاسی فیصلہ ہے۔بیان میں کہا گیا کہ قابض بلدیہ نے ایک ایسے منصوبے سے گریز کرنے کے بجائے جو علاقے میں تصادم کو بڑھا سکتا ہے اور اس کے استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہے، مشرقی بیت المقدس میں حالیہ برسوں کے سب سے بڑے یہودی آبادکاری کے منصوبوں کو آگے بڑھانے میں براہِ راست کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔








