پاکستان نے اہم معاشی استحکام حاصل، مہنگائی کو کنٹرول اور برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، پروفیسر احسن اقبال کا نیویارک میں پاکستانی نژد امریکیوں سے خطاب

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان نے اہم معاشی استحکام حاصل، مہنگائی کو کنٹرول اور برآمدات میں اضافہ کیا ہے،

نیویارک۔13جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان نے اہم معاشی استحکام حاصل، مہنگائی کو کنٹرول اور برآمدات میں اضافہ کیا ہے، موجودہ حکومت نے کامیابی سے میکرو اکنامک فریم ورک کو مستحکم کیا، ترقیاتی اخراجات کو تاریخی سطح تک بڑھایا اور کرنسی کو مستحکم کیا۔یہ بات انہوں نے گزشتہ روز نیویارک میں پاکستانی نژاد امریکیوں سے خطاب کے دوران کہی۔پاکستانی قونصلیٹ جنرل کے زیر اہتمام ہونے والی اس تقریب میں سابق وزیر دفاع خرم دستگیر اور امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ ،پاکستانی کمیونٹی کے افراد، تاجروں اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ قائم مقام قونصل جنرل عمر شیخ نے تقریب کی نظامت کی۔ پروفیسر احسن اقبال نے بے حد مالی پریشانی کے ادوار کے بعد وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معیشت کے مضبوط ٹرن اراؤنڈ پر روشنی ڈا لتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے کامیابی سے میکرو اکنامک فریم ورک کو مستحکم کیا، ترقیاتی اخراجات کو تاریخی سطح تک بڑھایا اور کرنسی کو مستحکم کیا۔

انہوں نے مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ چار روزہ فوجی تنازعے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج کی شاندار کارکردگی کا ذکر اور پاکستان کی کامیاب سفارتی ثالثی پر بھی زور دیا جس نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت میں اہم کردار اداکیا جس کے نتیجے میں جنگ بندی پرا تفاق ہوا، ان کامیابیوں نے عالمی برادری میں پاکستان کے وقار کو بڑھایا ، یہ ہماری قومی تاریخ کا قابل فخر باب رہیں گے۔ پروفیسر احسن اقبال نےکہا کہ پاکستان میں ترقی اور معاشی نمو کے مثبت رجحان پیدا ہو چکے ہیں لیکن ہمیں مطمئن نہیں ہونا چاہیے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عسکری اور سفارتی میدانوں میں معرکہ جیتنے کے بعد ملک کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم محنت کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت اور 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت میں تبدیل کرنے کا پرجوش طویل مدتی منصوبہ ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ فائیو ایز فریم ورک (ایکسپورٹس، ای پاکستان ، اینوائرنمنٹ ؍کلائمیٹ چینج، انرجی اینڈ انفراسٹرکچر، ایکوٹی ؍ ایمپاورمنٹ)آئی ٹی اور زرعی جدید کاری پر توجہ کے ساتھ سالانہ برآمدات کو 100 بلین ڈالر تک بڑھانے، معیشت کو ڈیجیٹائز کرنے اور ٹیک پر مبنی انٹرپرینیورشپ کو بڑھانے،بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کے لیے آب و ہوا میں لچک پیدا کرنے،پائیدار، سستی اور قابل اعتماد بجلی کے نظام کی تخلیق اور جامع ترقی کو فروغ دینے اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے پر مرکوز ہے۔انہوں نے کہا کہ جس چیز نے پاکستان کی سمت کو حقیقی معنوں میں تباہ کیا وہ سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں میں عدم مطابقت ہے، جب حکومتیں بدل جاتی ہیں تو آنے والی حکومتیں سیاسی بنیاد پر سابقہ منصوبوں کو ترک کر دیتی ہیں، بڑی کوششوں سے موجودہ حکومت استحکام کے ایک پیمانے کو فروغ دینے میں کامیاب رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی لانگ مارچ اور ایجی ٹیشن کا وقت ختم ہو چکا ، پاکستان کو اب معاشی میدان میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے،ہمیں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور ملک کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پالیسی کے تسلسل کو ترجیح دینی چاہیے۔ وفاقی وزیر نے اجتماع پر زور دیا کہ وہ اختلافات کو ختم کریں، اتحاد کو مضبوط کریں اور اس ملک میں اپنی آواز بلند کریں، ایسی سرگرمیوں سے گریز کریں جس سے پاکستان کا امیج خراب ہو۔ انہوں نے تاجروں پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔اس سے قبل خرم دستگیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آگے بڑھ رہا ہے،ملک ترقی کی طرف گامزن ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں ہونے والی پیش رفت میں جنوبی ایشیا میں مئی کے تصادم سے پہلے توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔