اسرائیل نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو فلسطینی پناہ گزینوں کےلئے کام کرنے والے ادارے کے ساتھ تعاون ختم کرنے سے آگاہ کر دیا

اقوام متحدہ۔4نومبر (اے پی پی):اسرائیل نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چیئرمین فلیمون ینگ کو فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ( یو این آر ڈبلیو اے ) کے ساتھ تعاون کے خاتمے سے باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا۔ روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مستقل نمائندے ڈینی ڈینن نےسوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان …

اقوام متحدہ۔4نومبر (اے پی پی):اسرائیل نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چیئرمین فلیمون ینگ کو فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ( یو این آر ڈبلیو اے ) کے ساتھ تعاون کے خاتمے سے باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا۔ روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مستقل نمائندے ڈینی ڈینن نےسوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا ہے کہ یو این آر ڈبلیو اے سے متعلق قانون سازی کے بعد اسرائیل نے جنرل اسمبلی کے صدر کو ایجنسی کے ساتھ تعاون ختم کرنے کے بارے میں باضابطہ طور پر مطلع کر دیا ہے ۔

فلسطینی عسکریت پسندوں کے یو این آر ڈبلیو اے کے ساتھ روابط کے حوالے سےاقوام متحدہ میں جمع کرائے گئے بہت سارے ثبوتوں کے باوجود عالمی ادارے نے کچھ نہیں کیا۔ اسرائیل انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والی دیگر تنظیموں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا لیکن ان تنظیموں کے ساتھ تعاون نہیں کرے گا جو ہمارے خلاف دہشت گردی کو فروغ دیتی ہیں۔ واضح رہے کہ 28 اکتوبر کو اسرائیل کی پارلیمنٹ کنیسٹ نے یو این آر ڈبلیو اے کی سرگرمیوں پر پابندی کا قانون منظور کیا ہے ۔

کنیسٹ کے 92 ارکان نے یو این آرڈبلیو اے پر پابندی کے حق میں اور 10 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ نیا اسرائیلی قانون یو این آر ڈبلیو اے کو اسرائیلی سرزمین پر براہ راست یا بالواسطہ طور پر دفاتر قائم کرنے ، خدمات فراہم کرنے یا کوئی بھی سرگرمیاں کرنے سے روک دیتا ہے۔ اسرائیل نے بارہا الزام لگایا ہے کہ یو این آر ڈبلیو اے کے کئی ملازمین فلسطینی عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔