سی پیک کا اگلا مرحلہ بنیادی ڈھانچے سے آگے بڑھ کر صنعتی ترقی، برآمدات، جدید ٹیکنالوجی اور عوامی خوشحالی کا نیا باب رقم کرے گا،محمد ضمیر اسدی

چائنا انٹرنیشنل پریس کمیونیکیشن سینٹر کے ریسرچ فیلو محمد ضمیر اسدی نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) نے پاکستان کے جغرافیائی، معاشی اور تزویراتی منظرنامے میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے جبکہ سی پیک کا اگلا مرحلہ بنیادی ڈھانچے سے آگے بڑھ کر صنعتی ترقی، برآمدات، جدید ٹیکنالوجی اور عوامی خوشحالی کا نیا باب رقم کرے گا

اسلام آباد۔30اگست (اے پی پی):چائنا انٹرنیشنل پریس کمیونیکیشن سینٹر کے ریسرچ فیلو محمد ضمیر اسدی نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) نے پاکستان کے جغرافیائی، معاشی اور تزویراتی منظرنامے میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے جبکہ سی پیک کا اگلا مرحلہ بنیادی ڈھانچے سے آگے بڑھ کر صنعتی ترقی، برآمدات، جدید ٹیکنالوجی اور عوامی خوشحالی کا نیا باب رقم کرے گا۔اتوار کو جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں سڑکوں، توانائی اور بندرگاہوں سمیت بنیادی ڈھانچے کی مضبوط بنیاد قائم ہوئی، جس نے ملک کے مختلف علاقوں کو باہم جوڑنے کے ساتھ تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کے لیے نئی راہیں کھولی ہیں۔ اب سی پیک 2.0 میں رابطہ کاری کو صنعتی تعاون، سڑکوں کو ویلیو چینز اور توانائی کے منصوبوں کو اقتصادی تنوع میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔محمد ضمیر اسدی نے کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز مینوفیکچرنگ اور برآمدات کے فروغ کے اہم مراکز بن سکتے ہیں، تاہم اس مقصد کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری، چینی اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان شراکت داری، بہتر ریگولیٹری نظام اور ہنرمند افرادی قوت کی تیاری پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ عالمی سپلائی چینز کے ساتھ پاکستان کا انضمام اور مقامی سپلائرز کو بڑے صنعتی اداروں سے جوڑنا صنعتی ترقی کے ثمرات کو وسیع پیمانے پر کاروباری شعبے اور عوام تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو سی پیک کی سپلائی چینز کا حصہ بنا کر مقامی سطح پر کاروبار، جدت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ان کے مطابق زراعت بھی سی پیک کے دوسرے مرحلے کا اہم شعبہ ہے۔ جدید زرعی ٹیکنالوجی، بہتر آبپاشی نظام، کولڈ اسٹوریج اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے زرعی پیداوار اور برآمدی مسابقت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، جس سے دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع بڑھنے کے ساتھ غربت اور شہروں کی جانب ہجرت کے دباؤ میں بھی کمی آئے گی۔محمد ضمیر اسدی نے ٹیکنالوجی کو سی پیک 2.0 کا ایک اور اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت، ٹیلی کمیونیکیشن، اسمارٹ لاجسٹکس، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور ای کامرس کے فروغ سے پاکستان کی معیشت میں نئی جہتیں پیدا کی جا سکتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان مضبوط روابط، جدید نصاب اور نوجوانوں کی تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر ہے۔انہوں نے گرین ڈویلپمنٹ کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ قابل تجدید توانائی، توانائی کے مؤثر صنعتی نظام اور ماحول دوست تعمیراتی طریقوں کا فروغ پاکستان کی ماحولیاتی پائیداری اور توانائی کے تحفظ میں معاون ثابت ہوگا۔محمد ضمیر اسدی نے کہا کہ بنیادی ڈھانچہ صنعتی ترقی کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے، لیکن یہ خود بخود صنعتی انقلاب نہیں لاتا۔ اس کے لیے مؤثر منصوبہ بندی، سرمایہ کاری، مضبوط شراکت داری اور پالیسیوں کے تسلسل کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر سی پیک 2.0 کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا گیا تو یہ پاکستان کی معیشت کو نئی سمت دینے، صنعتی شعبے کو متنوع بنانے، برآمدات میں اضافہ کرنے اور وسیع البنیاد معاشی خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک نے بنیادی ڈھانچے کی بنیاد فراہم کر دی ہے، اب صنعتی ترقی، برآمدات اور عوامی خوشحالی اس کے اگلے مرحلے کی کامیابی کا اصل پیمانہ ہوں گے۔