اقوام متحدہ کے انسانی امور سے متعلق حکام نے کہا ہے کہ مغربی کنارے میں شروع کیے گئے اسرائیلی فوجی آپریشن کے نتیجے میں اندازاً 40 ہزار فلسطینی شہری کرفیو کے باعث اپنے گھروں تک محدود ہو گئے ہیں جبکہ انہیں روزمرہ کی ضروریات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے
اسرائیل نے مغربی کنارے میں کرفیو نافذ کر کے 40 ہزار فلسطینیوں کو گھروں تک محدود کر دیا ہے ،اقوام متحدہ
اقوام متحدہ۔20اگست (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انسانی امور سے متعلق حکام نے کہا ہے کہ مغربی کنارے میں شروع کیے گئے اسرائیلی فوجی آپریشن کے نتیجے میں اندازاً 40 ہزار فلسطینی شہری کرفیو کے باعث اپنے گھروں تک محدود ہو گئے ہیں جبکہ انہیں روزمرہ کی ضروریات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہِ انسانی امور (او سی ایچ اے) نے نے اپنی روزانہ کی رپورٹ میں کہا کہ اسرائیلی کرفیو کے فوری انسانی اثرات مرتب ہو رہے ہیں کیونکہ لوگ ضروری سامان دوبارہ حاصل نہیں کر سکتے، بنیادی خدمات تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے اور نہ ہی اپنے کام کی جگہوں پر جا سکتے ہیں۔ او سی ایچ اے نے کہا کہ یہ کارروائی مقبوضہ بیت المقدس سے تقریباً 30 کلومیٹر جنوب میں واقع الخلیل گورنریٹ کے الظاہریہ علاقے میں شروع کی گئی، جہاں چھتوں پر سنائپرز تعینات کیے گئے اور سڑکوں کو مٹی کے ڈھیروں سے بند کر دیا گیا۔ امدادی شراکت داروں کے اندازے کے مطابق تقریباً 40 ہزار افراد، جن میں بچے بھی شامل ہیں، کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ او سی ایچ اے نے رپورٹ میں بتایا کہ اس کے شراکت داروں کے مطابق تقریباً سات فلسطینی گھروں کو پوچھ گچھ کے مراکز کے طور پر بھی استعمال کیا گیا جبکہ اسرائیلی فورسز نے خاندانوں کو ایک ہی کمرے تک محدود کر دیا۔ کئی گرفتاریوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ او سی ایچ اے نے کہا کہ گھروں اور خاندانوں کا تحفظ ضروری ہے اور ہر سکیورٹی آپریشن بین الاقوامی قانون کے مطابق شہریوں کے تحفظ اور ان کے وقار کا احترام کرتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔ ادارے نے کہا کہ وہ اور اس کے شراکت دار مغربی کنارے کے لوگوں کو ضروری امداد فراہم کرتے رہیں گے۔ او سی ایچ اے نے بتایا کہ غزہ میں اس کے شراکت داروں نے نام نہاد ’’یلو لائن ‘‘کے مغرب میں واقع علاقوں میں اسرائیلی فوجی سرگرمیوں کی اطلاع دی ہے۔ ابتدائی مقامی اطلاعات کے مطابق منگل کو غزہ سٹی کی بندرگاہ پر اسرائیلی فضائی حملے میں 7 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ او سی ایچ اے نے کہا کہ ایسے واقعات واضح طور پر شہریوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور محفوظ مقامات، طبی امداد اور انسانی امداد تک پہنچنے کی ان کی صلاحیت محدود کر دیں گے۔









