اسرائیل کا ایران پر پری ایمپٹو میزائل حملہ، تہران سمیت متعدد شہروں میں دھماکے، ہنگامی حالت نافذ

تل ابیب ، تہران ۔28فروری (اے پی پی):اِسرائیل نے ایران کے خلاف ہفتہ کی صبح میزائل حملے شروع کردیئے ہیں جس کے بعد ایران کے مختلف شہروں میں دھماکے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کارروائی کو پری ایمپٹو سٹرائیک قرار دیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق آج صبح جاری بیان میں اسرائیلی وزیر دفاع نے پورے اسرائیل میں خصوصی اور مستقل ہنگامی حالت نافذ کرنے کا …

تل ابیب ، تہران ۔28فروری (اے پی پی):اِسرائیل نے ایران کے خلاف ہفتہ کی صبح میزائل حملے شروع کردیئے ہیں جس کے بعد ایران کے مختلف شہروں میں دھماکے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کارروائی کو پری ایمپٹو سٹرائیک قرار دیا ہے۔

بی بی سی کے مطابق آج صبح جاری بیان میں اسرائیلی وزیر دفاع نے پورے اسرائیل میں خصوصی اور مستقل ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے تہران کے مرکز میں تین دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔ اسرائیل نےایران کے مغربی اور مشرقی شہروں اصفہان، قم ، کراج اور کرمان میں یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان تنازعہ کے حل کے لیے مذاکرات جاری تھے۔

اسرائیل کی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے مطابق ایران پر حملوں کے بعدملک بھر میں سائرن بجائے گئے ہیں اور موبائل ڈیوائسز پر براہِ راست ہدایت جاری کی گئی کہ لوگ محفوظ جگہوں کے قریب رہیں۔آئی ڈی ایف کی طرف سےایکس پر جاری بیان کے مطابق یہ ایک پیشگی الرٹ ہے تاکہ عوام کو ممکنہ میزائل حملوں کے لیے تیار کیا جا سکے۔آئی ڈی ایف نے اسرائیلی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ محفوظ جگہوں کے قریب رہیں۔اسرائیل نے اپنی فضائی حدود کو شہری پروازوں کے لیے بند کر دیا ہے۔ادھر ایران کے دارالحکومت تہران کے جمہوری سکوائر اور حسن آباد سکوائر پر دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے ہیں۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے ایران پر امریکی حملے کے امکان بارے میں صحافیوں کو جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خیال میں سفارتی راستے سے مثبت پیغامات آرہے ہیں، جن کی ہم حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ہم پورے خطے میں انتہائی تشویشناک فوجی نقل و حرکت دیکھ رہے ہیں ۔

خطے میں کشیدگی میں اضافے کے باعث متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کے لیے کہا ہے جن میں برطانیہ، کینیڈا اور بھارت شامل ہیں۔ دوسری جانب ایران نے پوری طاقت سے جواب دینے کے عزم کا اظہار کیاہے ۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے دعوی کیا ہے کہ اسرائیل کو ان حملوں میں امریکا کی معاونت حاصل ہے تاحال امریکا نے اس کی تصد یق نہیں کی ۔