اسلام آباد۔20اکتوبر (اے پی پی):اسلاموفوبیا کے تدارک کے لئے مؤثر اقداما ت کے حوالے سے ترکی کے مذہبی امور کے محکمہ کی جانب سے عالمی ورچوئل کانفرنس منعقد کی گئی۔ وزارت مذہبی امور کے ترجمان کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا ۔ کانفرنس میں دنیا کے50 سے زائد ممالک کے وزراء مذہبی امور اور مذہبی امور کے سربراہان نے شرکت کی جن …
اسلاموفوبیا کے تدارک کے لئے مؤثر اقداما ت کے حوالے سے ترکی کے مذہبی امور کے محکمہ کی جانب سے عالمی ورچوئل کانفرنس
اسلام آباد۔20اکتوبر (اے پی پی):اسلاموفوبیا کے تدارک کے لئے مؤثر اقداما ت کے حوالے سے ترکی کے مذہبی امور کے محکمہ کی جانب سے عالمی ورچوئل کانفرنس منعقد کی گئی۔ وزارت مذہبی امور کے ترجمان کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا ۔ کانفرنس میں دنیا کے50 سے زائد ممالک کے وزراء مذہبی امور اور مذہبی امور کے سربراہان نے شرکت کی جن میں پاکستان ، ازبکستان ، افغانستان ، تاجکستان ، قزاخستان، آذربائیجان ، کرغزستان ،ایران ، ملائیشیا، انڈونیشیا ، فلسطین ، یمن ، عراق ، شام ، تیونس ، لیبیا ، الجزائر ، مراکش وغیرہ نےشرکت کی۔ پاکستان کی نمائندگی پیر نورالحق قادری نے کی۔ کانفرنس میں فرانس ، سویڈن اور ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی اور گستاخانہ خاکوں کے بارے مشترکہ موقف اپنانے اور بھرپور سفارتی کوششوں کی ضرورت پر بات کی گئی۔ مغربی دنیا کو مسلمانوں کی دل آزاری اور جذبات کے بارے میں آگاہ کرنے کی پالیسی پر بھی تفصیلی بات کی گئی۔ کانفرنس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے چارلی ایبڈو اور قرآن کریم کی بے حرمتی کے خلاف پیش کیے گئےموثر موقف کو سراہا گیا۔پیر نورالحق قادری نے اپنے خطاب میں اسلاموفوبیا کے بارے متفقہ لائحہ عمل کے ذریعے عالمی کنونشن اور قانونی معاہدہ کے ذریعے احترام مذاہب اور مذہبی شخصیات پر زور دیا اور کہا کہ میڈیا کے ذریعے سےعالم اسلام کی طرف سے موثر اور مثبت جواب دیا جائے۔پاکستان کی طرف سے سفارتی اور سیاسی کوششوں کو مربوط بنانے کی تجویز دی گئ ۔ وزیر مذہبی امور نے تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ مغرب کے اندر انصاف پسند اور معتدل فکر کے حامل طبقات تک پیغام رسانی کیلئے مہم اور لابنگ کی جائے اور کورونا وائرس کے بعد اس موضوع پر ایک اور بالمشافہ کانفرنس منعقد کی جائے۔









