سمارٹ فونز کی سکرینوں کی جگہ پشاوری قہوہ ،مل بیٹھنے کی خوبصورت روایت

سمارٹ فونز کی سکرینوں کی جگہ پشاوری قہوہ ،مل بیٹھنے کی خوبصورت روایت

پشاور۔ 30 اگست (اے پی پی):گرمیوں کی دیر رات گئے تک جہاں ایک طرف اسمارٹ فونز کی اسکرینیں چمکتی ہیں اور سوشل میڈیا کے نوٹیفکیشن لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچتے ہیں، وہیں پشاور کے دل میں آپسی تعلق اور محبت کا ایک پرانا انداز آج بھی قائم و دائم ہے۔ قصہ خوانی بازار کی پررونق اور تنگ گلیوں میں چائے کے پیالوں کی کھنکھناہٹ، الائچی اور سبز چائے کی خوشبو، گفتگو کے دوران قہقہے ایک منفرد، قدیم اور بےمثال ماحول بناتے ہیں۔

قصے سنانے والوں کی گلی کے نام سے مشہور قصہ خوانی صدیوں سے وہ تاریخی مقام رہا ہے جہاں مسافر، تاجر، مفکر اور عام لوگ گرم قہوے کی چسکیاں لیتے ہوئے خبروں اور داستانوں کا تبادلہ کرنے جمع ہوتے تھے۔ اتوار کے دن بھی روایتی قہوہ خانے صبح سے لے کر دیر رات تک آباد رہے، جہاں خاندان اور دوست چارپائیوں اور میزوں کے گرد بیٹھ کر سیاست، ثقافت، کھیل، کاروبار اور روزمرہ کی زندگی پر باتیں کرتے نظر آئے۔بہت سے لوگوں کے لیے پشاوری قہوہ صرف ایک مشروب نہیں بلکہ ایک ثقافتی روایت، سماجی تعلق اور ان یادوں کی کڑی ہے جو اسمارٹ فون، ٹیلی ویژن اور جدید دور سے بھی پرانی ہیں۔

اکثر سیاحوں کےلیے قصہ خوانی کا تجربہ لذیذ کھانوں سے شروع ہوتا ہے۔ یہ بازار اپنے چپلی کباب، مٹن کڑاہی، پائے، تلی ہوئی مچھلی، چکن روسٹ، کابلی پلاؤ اور دیگر روایتی پکوانوں کے لیے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ ان بھرپور کھانوں کے بعد ہلکا پھلکا اور خوشبودار قہوہ پیش کیا جاتا ہے جسے روایتی طور پر ہاضمے کےلیے بہترین مانا جاتا ہے۔ اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک مقامی لیکچرر فاطمہ فیاض نے بتایا کہ بچوں کی گرمیوں کی تعطیلات ختم ہونے سے پہلے میں اپنے گھر والوں کے ساتھ نوشہرہ سے خاص طور پر قصہ خوانی کے مشہور چپلی کباب اور پشاوری قہوے کا لطف اٹھانے آئی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے پاکستان کے کئی شہر دیکھے ہیں لیکن قصہ خوانی کے چپلی کباب اور قہوے کا جو ذائقہ اور ماحول ہے، اس نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ خاندان کے ساتھ سکون سے کچھ وقت گزارنے کے لیے یہ قدیم قہوہ خانے بہترین جگہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی پشاور آنا ہو، میں قصہ خوانی کا چکر ضرور لگاتی ہوں تا کہ یہاں کے لذیذ کھانوں اور مشہور قہوے سے لطف اندوز ہو سکوں۔فاطمہ کا کہنا تھا کہ پشاوری قہوہ جسم کو گرمائش دیتا ہے اور نزلہ زکام اور ہاضمے کی خرابی کے لیے بے حد مفید بخش سمجھا جاتا ہے لیکن اس کا سب سے بڑا فائدہ شاید یہ ہے کہ یہ لوگوں کو ایک ساتھ بیٹھنے اور موبائل کی اسکرینوں سے نظریں ہٹانے کا موقع دیتا ہے۔

آج کے دور میں، جہاں زیادہ تر بات چیت اسکرین کے ذریعے ہوتی ہے، قہوے کی یہ مقبولیت واقعی حیران کن ہے۔ اس کے باوجود قہوہ خانوں کے اندر لوگ اپنے فون ایک طرف رکھ کر سامنے بیٹھے شخص سے دل کھول کر باتیں کرتے ہیں۔ قصہ خوانی کی شاہ ولی قتال گلی میں واقع مہمند قہوہ خانہ کے مالک فضل رحمان کہتے ہیں کہ یہ روایت ان کے خاندانی وقار کا حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے یہ کاروبار سکول کے زمانے میں اپنے والد سے ورثے میں ملا تھا اور میں پچھلے 57 سال سے فخر کے ساتھ اس سے وابستہ ہوں۔ فضل رحمان نے ویٹر کو چارپائیوں پر بیٹھے گاہکوں کو قہوہ پیش کرنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ قہوہ بنانا میرا جنون ہے۔ میں نے 1969 میں پرائمری سکول کے دوران اپنے والد سے یہ فن سیکھا تھا اور اب سے پانچ سال پہلے میرا بیٹا بھی اس کام میں میرے ساتھ شامل ہو گیا ہے۔

ان کے مطابق بیشتر گاہک آج بھی روایتی قہوہ ہی پسند کرتے ہیں۔البتہ دودھ والا قہوہ جسے مقامی زبان میں ‘شین دا پیو’ (سبز چائے دودھ کے ساتھ) کہا جاتا ہے، شادی بیاہ اور خاص تقریبوں میں بہت شوق سے پیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کی عادت کے باوجود قہوہ کلچر آج بھی زندہ ہے۔ لوگ یہاں آتے ہیں اور دیر رات تک لذیذ کھانوں اور قہوے کی چسکیاں لیتے ہوئے ثقافت، موسیقی، فن، سیاست اور روایتی کھانوں پر گفتگو کرتے ہیں۔ ان کی باتوں سے قہوہ خانوں کے اس پرانے کردار کی یاد تازہ ہوتی ہے جو اسمارٹ فونز کے آنے سے پہلے محلے کے نیوز روم کا کام کرتے تھے۔

فضل رحمان نے بتایا کہ ان قہوہ خانوں نے تحریکِ پاکستان کے دوران بھی لوگوں کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور قیامِ پاکستان کے بعد بھی یہ چائے کے ہوٹل سیاسی بحث و مباحثے کے بڑے مرکز بنے رہے۔انہوں نے فاطمہ جناح اور جنرل ایوب خان کے الیکشن، 1965 کی پاک بھارت جنگ، 1974 کی لاہور او آئی سی کانفرنس اور 1992 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کی تاریخی فتح جیسی اہم یادوں کا ذکر کیا۔ موبائل پر لمحہ بہ لمحہ خبریں ملنے سے پہلے یہ چائے خانے ہی وہ جگہ تھے جہاں معلومات سب سے تیزی سے پھیلتی تھیں۔

ایک شخص شہر کے ایک کونے سے خبر لاتا، دوسرا اس پر اپنی سیاسی رائے دیتا اور تیسرا کسی مسافر سے سنی بات آگے بڑھا دیتا۔ قصہ خوانی میں کہانیاں ایک میز سے دوسری میز تک پہنچتے پہنچتے نئے رنگ اختیار کر لیتی تھیں۔ اس لحاظ سے یہ قہوہ خانہ صرف چائے پینے کی جگہ نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا سوشل نیٹ ورک تھا۔ کاروان کے قدیم راستے سے لے کر ثقافتی مرکز تک، قصہ خوانی پشاور کے تاریخی حصے میں چوک یادگار، گھنٹہ گھر اور قلعہ بالاحصار کے قریب واقع ہے۔ اس کی تاریخ جنوبی ایشیا، افغانستان اور وسطی ایشیا کے راستے پر پشاور کی اہم جغرافیائی حیثیت سے جڑی ہوئی ہے۔ صدیوں سے تاجر اور مسافر اس بازار میں قیام کرتے، تجارتی سامان کے ساتھ دور دراز کے قصے سناتے اور چپلی کباب کے ساتھ گرم قہوے کا لطف اٹھاتے۔

تجارتی مرکز کی حیثیت سے اپنے عروج کے دنوں میں، دہلی، امرتسر، لاہور، کابل اور وسطی ایشیا سے آنے والے تاجر پشاور سے گزرتے تھے جہاں تجارت اور داستان گوئی کا ایک قدرتی سنگم بن جاتا تھا۔ محکمہ آثارِ قدیمہ کے ریسرچ آفیسر بخت زادہ خان کا کہنا ہے کہ قصہ خوانی کی تاریخ خود پشاور کی قدیم ثقافت کا حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قہوے کی روایت افغان اور مغل ادوار میں پروان چڑھی، جب حکمرانوں اور عام لوگوں میں بھنے ہوئے گوشت اور لذیذ کھانوں کا رواج بڑھا جن کے بعد خوشبودار گرم قہوہ پیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح داستان گوئی اور قہوہ نوشی کی یہ منفرد روایت قصہ خوانی کا لازمی حصہ بن گئی، جو سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی اسی طرح جاری ہے۔ قہوہ خانوں کی ساخت نے بھی اس اجتماعی ماحول کو سنبھال کر رکھا ہے۔ چارپائیاں اور سادہ بیٹھک لوگوں کو دیر تک بیٹھنے پر آمادہ کرتے ہیں۔جدید کافی شاپس کے برعکس جہاں لوگ لیپ ٹاپ یا موبائل میں کھوئے رہتے ہیں یہ جگہیں آپسی تعلق اور دوستی کو مضبوط کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔

تازہ قہوے کی خوشبو کے ساتھ ساتھ قریب کے فوڈ اسٹالز سے آتے بھنے گوشت اور مصالحوں کی مہک ہوا میں رچی بسی ہوتی ہے۔ ویٹر میزوں کے درمیان چکر لگاتے ہیں اور ہر طرف گفتگو کے سلسلے جاری رہتے ہیں۔ دیگر شہروں سے آنے والوں کے لیے یہ ماحول ایک خالص پشاوری تجربہ پیش کرتا ہے جہاں کھانا اور تاریخ ایک ساتھ ملتے ہیں۔ قصہ خوانی میں قیام کے دوران سیاح جنوبی ایشیائی فلم انڈسٹری کی عظیم شخصیات جیسے بالی ووڈ لیجنڈ یوسف خان (دلیپ کمار) اور کپور خاندان کے آبائی مکانات بھی دیکھ سکتے ہیں۔راج کپور کے والد پرتھویراج کپور کا آبائی گھر اس علاقے کی اہم تاریخی جگہوں میں شامل ہے جبکہ شاہ رخ خان کے خاندان کا خاندانی مکان بھی اسی محلے میں واقع ہے۔ روایتی کھانوں اور قہوہ خانوں کے ساتھ مل کر یہ مقامات قصہ خوانی کو کھانوں، عمارتوں اور ثقافت کی سیاحت کا ایک بہترین مرکز بناتے ہیں۔

سیاح یہاں 1930 کے سانحہ قصہ خوانی کی یادگار بھی دیکھ سکتے ہیں جب برطانوی فوج نے پرامن مظاہرین پر گولیاں چلا دی تھیں۔ سفید سنگِ مرمر کی یہ یادگار اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اس بازار کی تاریخ صرف مہمان نوازی اور تجارت کی نہیں بلکہ آزادی کی جدوجہد اور قربانیوں کی بھی ہے۔ قہوے کی اس روایت نے ان سخت حالات کا بھی مقابلہ کیا جنہوں نے اس بازار کی رونقوں کو گرہن لگا دیا تھا۔ 2001 سے 2013 کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی وجہ سے قصہ خوانی میں سیاحوں کی آمد شدید متاثر ہوئی اور قہوے کا کاروبار مندا پڑ گیا۔

اس عرصے میں جب دہشت گردوں نے پشاور کے اس ثقافتی مرکز کو نشانہ بنایا تو کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جن میں 2012 میں سینئر وزیر بشیر احمد بلور اور 2007 میں سی سی پی او ملک محمد سعد شہید شامل تھے۔ فضل رحمان کہتے ہیں کہ ان تمام تر واقعات کے باوجود ہمارے قہوہ خانے کے دروازے سیاحوں کے لیے ہمیشہ کھلے رہے۔ ایک اور قہوہ فروش عمر خان نے بتایا کہ دہشت گردی اور بعد میں کووڈ-19 کے معاشی نقصان کے باوجود تاجروں نے ان برے دنوں میں بھی کام جاری رکھا جب لوگ اس تاریخی بازار آنے سے ڈرتے تھے۔ انہوں نے حکومتِ خیبر پختونخوا سے اس صدیوں پرانی روایت کو بچانے کے لیے مالی امداد کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ اگر توجہ نہ دی گئی تو باقی ماندہ قہوہ خانے بھی ختم ہو سکتے ہیں۔ قہوے کا مستقبل چائے کی درآمدات پر ملک کے بھاری انحصار سے بھی جڑا ہوا ہے۔

پاکستان ایگری کلچر ریسرچ کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالوحد کے مطابق پاکستان میں چائے کی پیداوار کی زبردست صلاحیت موجود ہے لیکن اس کے باوجود چائے منگوانے پر بھاری زرِ مبادلہ خرچ ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر ہم شمالی خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مزید 2,000 ہیکٹر رقبے پر چائے کاشت کریں اور نجی کمپنیاں اس میں سرمایہ کاری کریں تو ہم ملک کی 95 فیصد چائے کی ضرورت خود پوری کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ درامدات پر انحصار کم کرنے کے لیے مقامی پیداوار ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2022 میں پاکستان نے 596 ملین ڈالر کی لاگت سے 22 لاکھ 58 ہزار کلوگرام کالی اور سبز چائے درامد کی تھی۔

ہمارے پاس سالانہ 40 لاکھ پودے لگانے کی صلاحیت ہے۔ اصل مسئلہ فنڈز اور وقت کا ہے کیونکہ کسانوں کو پہلی فصل حاصل کرنے کے لیے 5 سے 6 سال انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر وحید نے تجویز دی کہ چائے کے پودوں کو جنگلاتی فصل کا درجہ دیا جائے تاکہ ان کی جگہ دیگر درخت نہ لگائے جائیں۔انہوں نے چین کی طرز پر کسانوں کے لیے بلا سود قرضوں کی سفارش بھی کی۔ ٹی ٹریڈرز خیبر پختونخوا کے چیئرمین شوکت علی خان نے کہا کہ مقامی چائے کی صنعت کو فروغ دینے سے درامدات کا بوجھ کم ہوگا اور ملاکنڈ و ہزارہ ڈویژن کے کسانوں کو ایک نئی نقد آور فصل ملے گی۔

انہوں نے بتایا کہ درآمد شدہ سبز چائے کے ہر 50 کلوگرام پر تقریباً 1 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں جو زیادہ تر ویتنام سے آتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بالائی خیبرپختونخوا بالخصوص ملاکنڈ اور ہزارہ میں موافق موسم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کسانوں کو سہولتیں دی جائیں تو یہ بھاری رقم بچائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مانسہرہ کے علاقے شنکیاری میں چائے کاشت کی جا رہی ہے لیکن سرکاری سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے پیداوار ضرورت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ کسانوں کو مشینری کے لیے مالی مدد فراہم کرے تاکہ ملکی زرِ مبادلہ بچایا جا سکے۔

کھیوڑہ (پنجاب) سے آئے پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ملازم خورشید خان نے بتایا کہ اب چیلنج صرف قہوے کی دکانیں کھلی رکھنا نہیں، بلکہ اس کے گرد بنے پوری ثقافتی دنیا کو محفوظ بنانا ہے۔ قصہ خوانی میں قہوے اور گرل مچھلی کا مزہ لینے کے بعد میں یہاں ہیریٹیج ٹریل دیکھنے آیا ہوں، جو گھنٹہ گھر سے گور گھٹڑی تک 500 میٹر کا راستہ ہے اور جہاں دسیوں تاریخی عمارتوں کو اصل حالت میں بحال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محلہ سیٹھیاں کی تاریخی عمارتوں اور روایتی کھانوں کا یہ امتزاج اس علاقے کی خوبصورتی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ خورشید خان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے ثابت ہوتا ہے کہ کس طرح ورثے کی حفاظت، کھانے اور سیاحت مل کر مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے نئے موقع پیدا کر سکتے ہیں۔

ماہرین اور تاجروں کا ماننا ہے کہ عمارتوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے ڈیجیٹل پبلسٹی بھی ضروری ہے۔ قہوہ بنانے کی ویڈیوز، آن لائن واکنگ ٹورز، پرانے قصہ سنانے والوں کے انٹرویوز اور تاریخی تصاویر نئی نسل کو قصہ خوانی کی اس دنیا سے روشناس کروا سکتی ہیں جسے وہ شاید صرف موبائل اسکرین پر ہی دیکھ پاتے ہیں۔ گویا جو ٹیکنالوجی لوگوں کو ایک دوسرے سے دور کر رہی ہے، وہی انہیں یہاں واپس لانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ قصہ خوانی پر رات کا اندھیرا چھانے کے باوجود بازار کی رونق ماند نہیں پڑتی۔ چھوٹے پیالوں میں قہوہ انڈیلا جاتا رہتا ہے، جہاں جوان سیاست پر بحث کرتے ہیں، بزرگ پرانے پشاور کی یادیں تازہ کرتے ہیں، خاندان مل کر کھانا کھاتے ہیں اور مسافر اس تاریخی ماحول کی تصویریں بناتے ہیں۔ ایک دکاندار بتاتا ہے کہ کس طرح اس کے والد نے اسے قہوہ بنانا سکھایا اور اس نے یہ فن اپنے بیٹے کو منتقل کیا ۔

پشاور کی اس قہوہ روایت کی اصلی طاقت شاید یہی ہے کہ یہ صرف ایک مشروب کا نام نہیں بلکہ اس کا اصل ذائقہ آپسی رفاقت اور انسانوں کا ساتھ ہے۔ صدیوں سے مسافر دور دراز کے قصے لے کر قصہ خوانی آتے رہے۔ آج لوگ ایسے اسمارٹ فونز کے ساتھ آتے ہیں جو انہیں دنیا کے کسی بھی کونے سے فوری جوڑ سکتے ہیں۔ اس کے باوجود قصہ خوانی کی پرانی رسم آج بھی قائم ہے جہاں آنے والے کے سامنے گرم قہوے کا پیالہ رکھا جاتا ہے، دوست چارپائی کے گرد بیٹھتے ہیں، خاندان کھانا بانٹتے ہیں اور اجنبی ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں۔

اور کچھ دیر کے لیے دنیا میں بات چیت کا سب سے پرانا اور سچا انداز یعنی انسانوں کا ایک دوسرے سے روبرو ہونا سب سے اہم بن جاتا ہے۔ اس ڈیجیٹل دور میں قصہ خوانی کے قہوہ خانے ایک خاموش یاد دہانی ہیں کہ کچھ روایتیں اس لیے زندہ نہیں کہ وہ تبدیلی سے ڈرتی ہیں، بلکہ اس لیے قائم ہیں کہ وہ انسانی دل کی اس ضرورت کو پورا کرتی ہیں جسے ٹیکنالوجی کبھی نہیں بدل سکتی جو ایک ساتھ بیٹھنے، کھانا بانٹنے، کہانیاں سننے اور آپسی محبت کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔