اسلام آباد میں او آئی سی خواتین وزارتی کانفرنس کا آغاز، 57 رکن ریاستوں کے نمائندے شریک

اسلامی تعاون کی تنظیم(او آئی سی) کی نویں خواتین وزارتی کانفرنس اتوار کو اسلام آباد میں تکنیکی سطح کے اجلاسوں کے ساتھ شروع ہو گئی، اس دو روزہ کانفرنس میں تقریباً 190 نمائندے شریک ہیں، جن میں وزراء، اعلیٰ حکومتی افسران اور او آئی سی کے 57 رکن ممالک کے نمائندے شامل ہیں۔ کانفرنس میں خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی شرکت کو بڑھانے اور رکن ممالک کے درمیان تعاون …

اسلام آباد۔12جولائی (اے پی پی):اسلامی تعاون کی تنظیم(او آئی سی) کی نویں خواتین وزارتی کانفرنس اتوار کو اسلام آباد میں تکنیکی سطح کے اجلاسوں کے ساتھ شروع ہو گئی، اس دو روزہ کانفرنس میں تقریباً 190 نمائندے شریک ہیں، جن میں وزراء، اعلیٰ حکومتی افسران اور او آئی سی کے 57 رکن ممالک کے نمائندے شامل ہیں۔ کانفرنس میں خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی شرکت کو بڑھانے اور رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنے کے طریقوں پر مباحثہ کیا جائے گا ۔

او آئی سی ممالک میں خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی بااختیار سازی: چیلنجز اور آگے کا راستہ کے موضوع پر منعقد ہونے والی اس کانفرنس کا فوکس خواتین کی تعلیم، صحت، روزگار، انٹرپرینیورشپ، مالیاتی خدمات، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مواقع تک رسائی کو وسعت دینے اور عوامی زندگی میں ان کی مکمل شرکت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے پر ہے۔افتتاحی دن تکنیکی ماہرین اور اعلیٰ افسران تیاری کے سیشنز منعقد ہو رہے ہیں تاکہ پیر کے روز ہونے والے وزرا اجلاس کے لیے سفارشات کو حتمی شکل دی جا سکے۔

وزیر اعظم شہباز شریف وزارتی سیشن کا افتتاح کریں گے جبکہ پاکستان آئندہ دو سال کے لیے مصر سے او آئی سی خواتین وزارتی کانفرنس کی چیئرمین شپ باقاعدہ سنبھال لے گا۔ کانفرنس سے متعدد اعلیٰ پاکستانی راہنما خطاب کریں گے ، جن میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف، وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شیزہ فاطمہ خواجہ، وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ اور قومی اسمبلی کی اراکین وجیہہ قمر اور صبا صادق شامل ہیں۔

وہ پاکستان کی خواتین کو بااختیار بنانے کے اقدامات ، تعلیم، معاشی شمولیت اور قیادت کو فروغ دینے کے لیے کیے گئے اقدامات کو اجاگر کریں گے۔کانفرنس کا اختتام ’’اسلام آباد اعلامیہ‘‘ کی منظوری کے ساتھ متوقع ہے، جس میں رکن ممالک میں خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں آگے بڑھانے اور جامع اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک پیش کیا جائے گا۔