اسلام آباد۔7جنوری (اے پی پی):حکومت پاکستان نے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں موسمی پولن الرجی کے طویل المدتی مسئلے کے حل کیلئے 2025 کی آخری سہ ماہی میں ایک جامع مہم کے دوران 29,115 پیپر ملبرری کے الرجینک درخت ہٹا دیئے گئے۔، اس مہم کا بنیادی مقصد الرجینک پیپر ملبری درختوں کا منظم انتظام کرنا تھا اور یہ براہِ راست وزیراعظم کی ہدایت پر شروع کی گئی جنہوں نے پولن …
اسلام آباد میں موسمی پولن الرجی کے طویل المدتی مسئلے کے حل کیلئے 2025 کی آخری سہ ماہی میں جامع مہم کے دوران 29,115 پیپر ملبرری کے الرجینک درخت ہٹا دیئے گئے

مزید خبریں
اسلام آباد۔7جنوری (اے پی پی):حکومت پاکستان نے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں موسمی پولن الرجی کے طویل المدتی مسئلے کے حل کیلئے 2025 کی آخری سہ ماہی میں ایک جامع مہم کے دوران 29,115 پیپر ملبرری کے الرجینک درخت ہٹا دیئے گئے۔، اس مہم کا بنیادی مقصد الرجینک پیپر ملبری درختوں کا منظم انتظام کرنا تھا اور یہ براہِ راست وزیراعظم کی ہدایت پر شروع کی گئی جنہوں نے پولن سے الرجی کے مسئلے کو ترجیحی ایجنڈے میں شامل کیا تھا۔
27 نومبر 2025 کو منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس مہم کیلئے واضح روڈ میپ تیار کیا گیا جس کی صدارت وزیرِ مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر مختار احمد ملک نے کی۔ اس ہدایت کے تحت کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ الرجی کا باعث بننے والے درختوں کے خاتمے کے تفصیلی منصوبے پر عملدرآمد کرے اور باقاعدہ پیشرفت کی رپورٹس فراہم کرے تاکہ اسلام آباد کے شہریوں کو اس سنگین صحت کے چیلنج سے محفوظ بنایا جا سکے۔
مزید برآں وزارتِ قومی صحت نے سی ڈی اے کے ساتھ قریبی تعاون میں ایک سائنسی 3 مرحلوں پر مشتمل طریقہ کار اپنایا جس میں درختوں کی کٹائی، جڑوں کا مکمل اکھاڑنا اور زمین کو دوبارہ بھرنا شامل تھا تاکہ مستقبل میں دوبارہ اگنے کا امکان نہ رہے۔ اس طریقہ کار کے نتیجے میں وفاقی دارالحکومت میں 29,115 پیپر ملبرری کے الرجینک درخت ہٹا دیئے گئے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ پروٹوکول صرف پیپر ملبرری پر لاگو کیا گیا۔مہم کے دوران کسی بھی مقامی یا غیر الرجینک درخت کو نقصان نہیں پہنچایا گیا اور بحالی کی کوششیں صرف اکھاڑے گئے پیپر ملبرری یونٹس کی جگہ نئے درخت لگانے تک محدود ہیں، کٹائی کا عمل دارالحکومت کے بڑے سیکٹرز اور سبز علاقوں میں انجام دیا گیا۔ ایف-9 پارک میں 12,800، شکرپڑیاں میں 8,700 جبکہ شہری سیکٹرز میں جی -10، جی-11، ایف-10، ایف-11 اور ڈی-12 اور سری نگر ہائی وے کے اطراف سے 2,965 درخت ہٹائے گئے۔
مزید برآں سیکٹر جی-8 میں 1,405، جی-9 میں 839، ایف-8 میں 490، ایچ-8 میں 1,142 اور ایچ-9 میں 534 درخت ہٹائے گئے۔ اس ہدف شدہ آپریشن نے شہری علاقوں اور اہم تفریحی زونز دونوں کو مؤثر انداز میں کور کیا۔ کٹائی کے کامیاب مرحلے کے بعد مہم اب ایک پائیدار سبز بحالی حکمت عملی میں تبدیل ہو گئی ہے۔ حکومت نے ہدایت کی ہے کہ ہر اکھاڑے گئے الرجینک درخت کے بدلے 3 نئے ماحول دوست اور مقامی درخت لگائے جائیں۔
اس پالیسی کے تحت پیپر ملبرری کے لئے صاف کی گئی جگہوں پر پہلے ہی 40,000 مقامی اور ماحول دوست بڑے درخت لگائے جا چکے ہیں جن میں پھلدار اور صنوبر کی مختلف اقسام شامل ہیں تاکہ ایک صحت مند ماحولیاتی نظام قائم ہو۔ اس مہم میں عوامی و نجی شراکت داری کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ کمپنی "میرا پاور لمیٹڈ” نے 3,000 مقامی پودے فراہم کئے جبکہ بیکن ہاؤس سکول سسٹم نے ایف-9 کے علاقے میں مزید 5,000 درخت لگائے۔
مزید برآں 6 جنوری 2026 کو او جی ڈی سی ایل کے تعاون سے 18,000 اضافی بڑے مقامی درختوں کے لئے ٹینڈر جاری کیا گیا تاکہ شجرکاری کی کوششیں مزید بہتر ہوں۔ صرف شکرپڑیاں میں 3 سائٹس پر 81 ایکڑ زمین ہموار کی گئی اور اگلی شجرکاری کے سیزن کے لئے گڑھے کھودنے کا کام جاری ہے، پورا منصوبہ اپریل 2026 کے آخر تک مکمل کیا جائے گا۔ اسلام آباد کے الرجی سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق اس مداخلت کے بعد عوام کی صحت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
وزیرِ مملکت کی نگرانی میں وزیراعظم کی ہدایت پر عملدرآمد کے بعد پولن الرجی کے لئے ویکسینیشن کی ضرورت رکھنے والے مریضوں کی تعداد میں مسلسل کمی واقع ہوئی۔ ریکارڈ کے مطابق 2023 میں کل 16,250 مریضوں کو پولن اور پیپر ملبرری الرجی کی ویکسین دی گئی جبکہ 2024 میں یہ تعداد 14,747 اور 2025 کے آخر تک 12,449 ہو گئی،
یعنی دو سال میں 23 فیصد کمی واقع ہوئی، اثر سب سے زیادہ 2025 کے آخری مہینوں میں واضح ہوا۔ نومبر میں ویکسینیشن صرف 512 اور دسمبر میں 519 رہی جو 2023 کے اسی مہینوں کے 1,164 اور 1,141 کیسز کے مقابلے میں نمایاں کمی تھی۔ یہ اعداد و شمار واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے الرجینک درختوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات نے اسلام آباد کے شہریوں کے لئے صاف ہوا اور صحت مند، پائیدار مستقبل یقینی بنایا ہے۔








