وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد کو ایک مضبوط، نمائندہ اور بااختیار طرز حکمرانی کی ضرورت ہے جو شہریوں کیلئے قانون سازی، انتظامی امور اور ترقیاتی فیصلوں میں موثر آواز فراہم کرے
اسلام آباد کو ایک مضبوط، نمائندہ اور بااختیار طرز حکمرانی کی ضرورت ہے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد کو ایک مضبوط، نمائندہ اور بااختیار طرز حکمرانی کی ضرورت ہے جو شہریوں کیلئے قانون سازی، انتظامی امور اور ترقیاتی فیصلوں میں موثر آواز فراہم کرے۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے زیر اہتمام اسلام آباد گورننس اینڈ پراونشل سٹیٹس کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس سے متعلق قومی بحث کو آئینی طریقہ کار اور بامعنی عوامی مشاورت کے ذریعے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے معاملات متعدد وفاقی اداروں میں منقسم ہونے کے باعث پانی، سیوریج، نکاسی آب، انفراسٹرکچر اور دیہی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں انتظامی خلا پیدا ہو رہا ہے، اس لیے دارالحکومت کے لیے ایسا نظام ضروری ہے جو منتخب، مالی طور پر مستحکم اور ادارہ جاتی تسلسل کا حامل ہو جبکہ قومی سلامتی، امن و امان اور حساس وفاقی تنصیبات کا تحفظ وفاقی حکومت کی ذمہ داری برقرار رہے۔ وفاقی وزیر نے آئی سی سی آئی صدر سردار طاہر محمود کے ہمراہ چیمبر میں اوورسیز فسیلیٹیشن سینٹر کا افتتاح بھی کیا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد کے گورننس ماڈل کے تعین میں شہریوں کو بامعنی کردار ملنا چاہیے اور اس بحث کو نعروں سے آگے بڑھا کر نمائندگی، جوابدہی اور عوامی خدمات کی بہتری کے عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہو گا۔ انہوں نے آئی سی سی آئی کی جانب سے سیاسی نمائندوں، پارلیمنٹیرینز، کاروباری رہنمائوں اور سول سوسائٹی کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے عمل کو سراہتے ہوئے ٹریفک کوریڈورز کی بہتری، سیف سٹی نظام میں توسیع، میرٹ پر 10 ہزار پولیس اہلکاروں کی بھرتی، نئے آبی ذخائر کی تعمیر اور پرانی پائپ لائنوں کی تبدیلی سمیت مختلف اقدامات کا ذکر کیا اور دیہی اسلام آباد کے شہریوں کو مساوی بنیادی سہولیات کی فراہمی پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کا گورننس ماڈل مضبوط عوامی نمائندگی، ادارہ جاتی استحکام اور سیاسی پختگی پر مبنی ہونا چاہیے۔ وزیر مملکت نے آئی سی سی آئی صدر کے ہمراہ چیمبر ہائوس کے نادرا آفس میں پاسپورٹ کائونٹر کا افتتاح بھی کیا۔وزیراعظم کے نیشنل کوآرڈینیٹر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس خان نے کہا کہ عوام کو اپنے نظام حکمرانی کے انتخاب میں موثر کردار ملنا چاہیے جبکہ پالیسی سازی اور عوامی توقعات کے درمیان فاصلے کو ختم کرنے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر کامیاب گورننس ماڈلز کو مقامی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے اور اداروں کو شخصیات کے بجائے پیشہ ورانہ صلاحیت، نظم و ضبط، تسلسل اور واضح جوابدہی کی بنیاد پر مضبوط بنایا جائے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ تیزی سے پھیلتے ہوئے دارالحکومت کے لیے موجودہ انتظامی ڈھانچہ ناکافی ہے اور اسلام آباد کو زیادہ موثر انتظامی نظام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی ترقی کے لیے نجی شعبے کو سازگار ماحول، سرمایہ کاری کے مواقع اور کاروبار کے فروغ کے لیے ضروری سہولیات فراہم کرنا ہوں گی۔آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا کہ 24 لاکھ سے زائد آبادی اور تیزی سے بڑھتے کاروباری، صنعتی، آئی ٹی اور تعلیمی مراکز کے حامل اسلام آباد کو موجودہ انتظامی ڈھانچے کے تحت نہیں چلایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہری اکثر یہ جاننے سے قاصر رہتے ہیں کہ بنیادی خدمات کی ذمہ داری کس ادارے پر عائد ہوتی ہے۔ ’’اختیار سب کے پاس ہے، مگر جوابدہی کسی کی نہیں‘‘۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورننس کا معاملہ کاروباری برادری کے لیے سیاسی نہیں بلکہ ایک بنیادی معاشی مسئلہ ہے جس کا براہ راست تعلق سرمایہ کاری، روزگار اور کاروباری لاگت سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی نے منتخب حکومت کے لیے مالی خودمختاری، سی ڈی اے سے اختیارات کی منتقلی کے دوران شہریوں اور سرمایہ کاروں کے حقوق کے تحفظ، انتخابات کے لیے واضح ٹائم فریم، کاروباری برادری اور سول سوسائٹی سے ادارہ جاتی مشاورت اور دیہی اسلام آباد کی مساوی ترقی و نمائندگی کی تجاویز پیش کی ہیں۔ انہوں نے گورننس فریم ورک کا جائزہ لینے اور حکومت کو سفارشات پیش کرنے کے لیے وسیع البنیاد، غیر سیاسی فورم کے قیام کا اعلان بھی کیا۔ رکن قومی اسمبلی انجم عقیل خان نے اسلام آباد کے مسائل کے حل کے لیے منتخب اسمبلی کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے 27 رکنی اسمبلی کی جلد تشکیل کی امید ظاہر کی۔ سابق چیئرمین سینیٹ و سیکریٹری جنرل پاکستان پیپلز پارٹی سید نیئر حسین بخاری نے مجوزہ گورننس ماڈل پر وسیع تر مشاورت اور جامع غوروفکر کی ضرورت پر زور دیا جبکہ جماعت اسلامی اسلام آباد کے رہنما نصراللہ رندھاوا نے سٹیک ہولڈرز کی تجاویز شامل کرنے اور ’’3-D اسلام آباد‘‘جمہوری، ترقی یافتہ اور ڈیجیٹل اسلام آباد کی تشکیل پر زور دیا۔ قبل ازیں چیئرمین آئی سی سی آئی فاؤنڈر گروپ طارق صادق نے خطبہ استقبالیہ میں کنونشن کے مقاصد اور اہمیت پر روشنی ڈالی۔
وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل چوہدری آصف عرفان، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ و سابق وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل عادل عزیز قاضی اور صدر اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن چوہدری نعیم علی گجر نے بھی خطاب کیا جبکہ آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے کارروائی کی نظامت کی۔








