اسلام آباد ہائی کورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں کے خلاف درخواست پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے نئی بھرتیوں سے متعلق جاری اشتہار پر پیش رفت مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک معطل کر دی جبکہ مرکزی کیس کی سماعت 22 اگست کو مقرر کر دی۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے متنازع بھرتی اشتہار کی معطلی سے متعلق متفرق درخواست …
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اے این ایف میں نئی بھرتیوں پر حکم امتناع جاری کر دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔24جولائی (اے پی پی):اسلام آباد ہائی کورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں کے خلاف درخواست پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے نئی بھرتیوں سے متعلق جاری اشتہار پر پیش رفت مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک معطل کر دی جبکہ مرکزی کیس کی سماعت 22 اگست کو مقرر کر دی۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے متنازع بھرتی اشتہار کی معطلی سے متعلق متفرق درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کیا۔
اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے ایڈووکیٹ محمد علی رضا کے ذریعے درخواست دائر کرتے ہوئے وزارت داخلہ، وزارت قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار گزشتہ 10 برس سے اے این ایف میں کانسٹیبل کے عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے تاہم اسے تاحال ترقی نہیں دی گئی۔ درخواست کے مطابق 665 کانسٹیبلز کی سنیارٹی فہرست میں درخواست گزار کا نمبر 232 ہے، لیکن محکمانہ ترقی کمیٹی (ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی) کا اجلاس بلائے بغیر براہ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کر دیا گیا جو قانون اور سروس رولز کے منافی ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کے ترقی کے حق کو نظر انداز کرتے ہوئے براہ راست بھرتیوں کا عمل شروع کیا گیا ہے۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی تعیناتی روکی جائے، سویلین ملازمین کا سروس سٹرکچر بحال کیا جائے، حالیہ بھرتیوں کے اشتہار کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے اور تمام خالی آسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے فوری طور پر ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا جائے۔عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد نئی بھرتیوں سے متعلق اشتہار پر عمل درآمد مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک معطل کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 22 اگست تک ملتوی کر دی۔








