وفاقی وزیر برائے قانون وانصاف اور انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا صرف سماجی ضرورت نہیں بلکہ معاشی ترقی کی ناگزیر شرط، موثر حکمرانی کی ترجیح اور پائیدار ترقی کی بنیادی اساس ہے
اسلام نے خواتین کے وقار، حقوق، تعلیم، انصاف اور معاشرے میں ان کے مؤثر کردار کو تسلیم کیا، خواتین کو بااختیار بنانا معاشی ترقی کی ناگزیر شرط ہے ،وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ کا اوآئی سی کی 9ویں وزارتی کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔13جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قانون وانصاف اور انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا صرف سماجی ضرورت نہیں بلکہ معاشی ترقی کی ناگزیر شرط، موثر حکمرانی کی ترجیح اور پائیدار ترقی کی بنیادی اساس ہے، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) ہمیں ایک منفرد پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جہاں ہم اپنی مشترکہ امنگوں کو اجتماعی اور موثر اقدامات میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو او آئی سی کی خواتین کی’’ 9ویں وزارتی کانفرنس ‘‘سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس میں چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی،وفاقی وزرا ، سربراہانِ وفود، بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندگان اورسفارتی کور کے اراکین نے شرکت کی۔وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق اعظم نذیرتارڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی خواتین سے متعلق 9ویں وزارتی کانفرنس کے مندوبین کو اسلام آباد میں خوش آمدید کہنا باعث اعزاز و مسرت ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ہم یہاں صرف اپنے اپنے رکن ممالک کے نمائندوں کی حیثیت سے جمع نہیں ہوئے بلکہ ایک مشترکہ وژن کے امین بن کر اکٹھے ہوئے ہیں، ایک ایسے مستقبل کے لیے جہاں ہر خاتون کو قیادت کرنے، جدت پیدا کرنے اور مسلم دنیا کی ترقی و خوشحالی میں بھرپور کردار ادا کرنے کے یکساں مواقع حاصل ہوں۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے میں تمام معزز وفود کا دلی خیرمقدم کرتا ہوں۔ پاکستان کے لیے یہ باعثِ فخر ہے کہ اسے اس اہم کانفرنس کی میزبانی اور صدارت کا اعزاز حاصل ہوا ہے، ہم اس ذمہ داری کو عاجزی، احساسِ ذمہ داری اور اس پختہ عزم کے ساتھ قبول کرتے ہیں کہ او آئی سی کے تمام 57 رکن ممالک کی خدمت شراکت داری، شمولیت اور باہمی اتفاقِ رائے کے جذبے کے تحت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنی مشترکہ جدوجہد کے ایک نہایت اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ او آئی سی کے مختلف ممالک میں خواتین معیشتوں کو مضبوط بنا رہی ہیں، سائنسی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں، اداروں کو مستحکم کر رہی ہیں، کاروباری دنیا کی قیادت کر رہی ہیں، سرکاری مناصب پر خدمات انجام دے رہی ہیں اور امن و انسانی ہمدردی کی کوششوں میں بھرپور حصہ لے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی کامیابیاں مضبوط خاندانوں، زیادہ باصلاحیت معاشروں اور خوشحال قوموں کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں تاہم ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ آج بھی لاکھوں خواتین اور بچیاں ایسی رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہیں جو ان کے مواقع محدود کرتی ہیں اور انہیں قومی ترقی میں اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق کردار ادا کرنے سے روکتی ہیں،ہماری ذمہ داری صرف ان حقائق کا اعتراف کرنا نہیں بلکہ ان حالات کو تبدیل کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا موضوع’’او آئی سی ممالک میں خواتین کو سماجی، معاشی اور سیاسی طور پر بااختیار بنانا: چیلنجز اور آگے کا راستہ‘‘ نہایت بروقت، اہم اور مستقبل کی سمت متعین کرنے والا ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا صرف ایک سماجی ضرورت نہیں بلکہ معاشی ترقی کی ناگزیر شرط، موثر حکمرانی کی ترجیح اور پائیدار ترقی کی بنیادی اساس ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کوئی بھی قوم اس وقت تک اپنی مکمل صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکتی جب تک اس کی نصف آبادی کو تعلیم حاصل کرنے، روزگار پانے، جدت پیدا کرنے اور قیادت کرنے کے مساوی مواقع میسر نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا اصل مقصد ان تمام رکاوٹوں کو دور کرنا ہے جو اس صلاحیت کو بروئے کار آنے سے روکتی ہیں،
آج جن اقدار کی روشنی میں ہم اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، ان کی بنیاد ہماری عظیم اسلامی تعلیمات میں مضمر ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اسلام نے ابتدا ہی سے خواتین کے وقار، حقوق، تعلیم، انصاف اور معاشرے میں ان کے مؤثر کردار کو تسلیم کیا اور انہیں ایک باعزت اور بااختیار مقام عطا کیا۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مستقبل ایسا ہونا چاہیے جو شمولیت کا ذریعہ بنے، نہ کہ مساوات کی راہ میں رکاوٹ بنے۔انہوں نے کہا کہ او آئی سی ہمیں ایک منفرد پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جہاں ہم اپنی مشترکہ امنگوں کو اجتماعی اور موثر اقدامات میں تبدیل کر سکتے ہیں،خواتین کی ترقی کے لیے او آئی سی کے پلان آف ایکشن اور ویمنز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کی اہم کاوشوں کے ذریعے ہم نے رکن ممالک کے درمیان تعاون کا ایک مضبوط فریم ورک تشکیل دیا ہے۔ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھتے ہوئے، کامیاب عملی نمونوں کا تبادلہ کرتے ہوئے اور بین الاقوامی شراکت داری کو مزید مضبوط بنا کر ہم ترقی کی رفتار تیز کر سکتے ہیں جبکہ اپنے قانونی نظام، ثقافتی تنوع اور قومی ترجیحات کا مکمل احترام بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس صدارت کو کسی اعزاز یا وقار کی علامت نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک اہم ذمہ داری تصور کرتا ہے، ہم اس ذمہ داری کو اس عزم کے ساتھ نبھائیں گے کہ تمام رکن ممالک کی آرا کو غور سے سنیں، اتفاقِ رائے کو فروغ دیں اور ہماری مشترکہ امنگوں کو ایسے عملی اقدامات میں تبدیل کریں جو پوری اسلامی دنیا کی خواتین کی زندگیوں میں حقیقی اور مثبت تبدیلی لائیں۔اس کانفرنس کی حقیقی کامیابی صرف منظور کی جانے والی قراردادوں یا اعلامیوں سے نہیں ناپی جائے گی بلکہ اس بات سے جانچی جائے گی کہ ہم اپنے اپنے ممالک میں واپس جا کر خواتین کے لیے کتنے نئے مواقع پیدا کرتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے لیے خواتین کو بااختیار بنانا محض ایک پالیسی مقصد نہیں بلکہ ایک قومی ترجیح ہےجس کی بنیاد ہمارے آئین، ہماری اسلامی اقدار اور ہمارے روشن مستقبل کے وژن پر قائم ہے،پاکستان کا آئین ہر شہری کو بلاامتیاز مساوات، وقار اور قانون کے تحت یکساں تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
انہی اصولوں کی روشنی میں اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان خواتین کے حقوق، مواقع اور قیادت کو فروغ دینے کے لیے اپنے قانونی، پالیسی اور ادارہ جاتی نظام کو مسلسل مضبوط بنا رہا ہے،وزارتِ انسانی حقوق، صوبائی حکومتوں، پارلیمنٹ، عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے اس عزم کو موثر اور عملی اقدامات میں تبدیل کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی صنفی پالیسی فریم ورک 2025 اور وزیراعظم ویمن ایمپاورمنٹ پیکیج کی رہنمائی میں ہم خواتین کی قیادت کو فروغ دے رہے ہیں، مالی شمولیت اور کاروباری مواقع میں اضافہ کر رہے ہیں، ڈیجیٹل خلیج کو کم کر رہے ہیں، انصاف تک رسائی کو مضبوط بنا رہے ہیں اور خواتین کے لیےکام کی زیادہ محفوظ، باوقار اور جامع جگہیں تشکیل دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنی صدارت کی ذمہ داریاں مکمل دیانت داری، شفافیت اور غیر جانبداری کے ساتھ انجام دیں گے، ہم مکالمے کو فروغ دیں گے، اتفاقِ رائے پیدا کریں گے اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے تاکہ اس کانفرنس کے نتائج او آئی سی کے تمام رکن ممالک میں خواتین کی زندگیوں میں حقیقی اور مثبت تبدیلی کا باعث بنیں۔او آئی سی کے جنرل سیکرٹریٹ، ویمنز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن اور تمام رکن ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے ہم تجربات کے تبادلے کو فروغ دیں گے، عملی اشتراک کی حوصلہ افزائی کریں گے اور خواتین کو بااختیار بنانے کے اپنے مشترکہ عزم کو مزید آگے بڑھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ او آئی سی کی اصل طاقت ہمیشہ اس کے اتحاد میں رہی ہےاگرچہ ہماری ثقافتیں، قانونی نظام اور سماجی و معاشی حالات ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن ہم انصاف، انسانی وقار، ہمدردی اور مساوی مواقع کے مشترکہ اصولوں پر متحد ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آج ہمارے پاس ایک ایسا تاریخی موقع ہے کہ ہم ایسے فیصلے اور سفارشات مرتب کریں جو او آئی سی کے تقریباً 94 کروڑ خواتین کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب کریں جو تنظیم کے رکن ممالک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 49.3 فیصد ہیں،آئیے اس پلیٹ فارم کو صرف خیالات کے تبادلے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے مضبوط شراکت داری قائم کرنے، اپنے وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے اور خواتین کو درپیش باقی ماندہ چیلنجز سے نمٹنے کا مؤثر ذریعہ بنائیں،اس کانفرنس کی حقیقی کامیابی صرف ان اعلامیوں سے نہیں ناپی جائے گی جو ہم یہاں منظور کریں گے، بلکہ اس پیش رفت سے جانچی جائے گی جو ہم اپنے اپنے ممالک میں واپس جا کر مل کر حاصل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو اس شہر کے طور پر یاد رکھا جائے جہاں ہمارے مشترکہ عزم نے اجتماعی عمل کی شکل اختیار کی اور جہاں مسلم دنیا کی خواتین کے لیے ہماری وابستگی کو نئی توانائی اور نئی سمت ملی،اللہ تعالیٰ ہماری مشاورت میں رہنمائی فرمائے، ہماری مشترکہ کوششوں میں برکت عطا کرے اور ہمیں وہ حکمت، بصیرت اور عزم عطا فرمائے جس کے ذریعے ہم آج کی بات چیت کوکو مسلم دنیا کی خواتین کے لیے پائیدار ترقی اور دیرپا کامیابی میں تبدیل کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کے جنرل سیکرٹریٹ کا اس کے مسلسل تعاون اور بھرپور معاونت پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا ان کی انتھک کاوشوں، وزارتِ خارجہ کی پوری ٹیم، وزارتِ انسانی حقوق کی ٹیم، اس کانفرنس کے منتظمین، تمام معزز مہمانوں اور ہمارے تمام شراکت داروں کا بھی دلی شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی گرانقدر خدمات اور تعاون کے بغیر اس کانفرنس کا کامیاب انعقاد ممکن نہ تھا۔انہوں نے کہا کہ میں ایک مرتبہ پھر آپ سب کو پاکستان میں خوش آمدید کہتا ہوں اور اسلامی تعاون تنظیم کی خواتین سے متعلق 9ویں وزارتی کانفرنس کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں








