اسٹیٹ بینک نے ان ریٹیڈ بڑے کارپوریٹ اداروں کے لیے قرض کی حد 3 ارب سے بڑھا کر 10 ارب روپے کر دی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکاری شعبے کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے ان ریٹیڈ (Unrated) بڑے نجی کارپوریٹ قرض گیر اداروں کے لیے تمام بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کی مجموعی ایکسپوژر کی حد 3 ارب روپے سے بڑھا کر 10 ارب روپے کر دی ہے۔

اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکاری شعبے کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے ان ریٹیڈ (Unrated) بڑے نجی کارپوریٹ قرض گیر اداروں کے لیے تمام بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کی مجموعی ایکسپوژر کی حد 3 ارب روپے سے بڑھا کر 10 ارب روپے کر دی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے بینکنگ پالیسی اینڈ ریگولیشنز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کے مطابق یہ فیصلہ موجودہ معاشی ماحول میں آنے والی تبدیلیوں اور بینکاری صنعت سے موصول ہونے والی آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔مرکزی بینک نے بتایا کہ نئی حد 30 ستمبر 2026 سے نافذ العمل ہوگی جس کے بعد بینک اور ترقیاتی مالیاتی ادارے غیر ریٹیڈ بڑے نجی کارپوریٹ قرض گیر اداروں کو مقررہ نئی حد کے مطابق قرض فراہم کر سکیں گے۔

سرکلر کے مطابق غیر ریٹیڈ بڑے کارپوریٹ قرض گیر اداروں کے لیے ایکسپوژر کی نئی حد کو باسل(Basel)-III فریم ورک کے تحت کریڈٹ رسک (اسٹینڈرڈائزڈ اپروچ) سے متعلق نظرثانی شدہ ہدایات کا بھی حصہ بنایا جائے گا جو ستمبر 2025 میں جاری کی گئیں اور جن پر بینک اور ترقیاتی مالیاتی ادارے مرحلہ وار عمل درآمد کر رہے ہیں۔