امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کو ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سے انکار پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان میں ہمت کی کمی دیکھ کر صدمے اور مایوسی سے دوچار ہوئے ہیں
اطالوی وزیر اعظم کو بہادر سمجھتا تھا ،انہوں نے مجھے مایوس کیا،امریکی صدر
واشنگٹن۔15اپریل (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کو ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سے انکار پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان میں ہمت کی کمی دیکھ کر صدمے اور مایوسی سے دوچار ہوئے ہیں۔ العربیہ اردو کے مطابق امریکی صدر نے گزشتہ روز اطالوی اخبار ’’کوریری ڈیلا سیرا‘‘ کو انٹرویو میں سوال کیا کہ ’’کیا اطالویوں کو یہ پسند آئے گا کہ ان کی سربراہِ حکومت تیل کے حصول میں ہماری مدد نہیں کر رہی؟ میں حیران ہوں.. میرا خیال تھا کہ وہ بہادر ہیں لیکن میں غلط تھا۔ انہوں نے کہا کہ جارجیا میلونی اٹلی کو جنگ میں شامل نہیں کرنا چاہتیں، حالانکہ ان کا ملک اپنی ضرورت کا بڑا حصہ اسی خطے سے درآمد کرتا ہے۔ ٹرمپ نے اطالوی وزیراعظم کے موقف کو ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا۔ یہ بیان میلونی کے اس اعلان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے موجودہ صورت حال کے پیشِ نظر اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اطالوی وزیراعظم نے ویرونا میں پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ حکومت نے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ علاوہ ازیں پیر کو اطالوی وزیراعظم نے پوپ فرانسس (لیو چہاردہم) پر ٹرمپ کی تنقید کو بھی مسترد کر دیا تھا۔ پوپ نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خلاف بیان دیا تھا، جس پر ٹرمپ کے تبصرے کو میلونی نے ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوپ کا امن کی دعوت دینا اور جنگ کی مذمت کرنا بالکل درست اور فطری ہے۔ اطالوی وزیر اعظم نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے، کیونکہ یہ نہ صرف ایندھن بلکہ کھاد کی فراہمی کے لیے بھی نا گزیر ہے۔









