اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی ،ترقی وخصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے حقائق پر مبنی قومی بیانیے کے فروغ کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کاروباری برادری عالمی سطح کے برانڈز تیار کرے، اضلاع کو برآمدی مراکز میں تبدیل کرے اور برانڈ پاکستان کے سفیر کا کردار ادا کرے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کوپاکستان ٹرانسپیرنسی اینڈ اکائونٹیبلیٹی انڈیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ …
اعتماداور کاروبار دوست ماحول پائیدار قومی ترقی کیلئے ناگزیر ہے،کاروباری برادری برانڈز تیارکر کے برانڈ پاکستان کے سفیر کا کردار ادا کرے،احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی ،ترقی وخصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے حقائق پر مبنی قومی بیانیے کے فروغ کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کاروباری برادری عالمی سطح کے برانڈز تیار کرے، اضلاع کو برآمدی مراکز میں تبدیل کرے اور برانڈ پاکستان کے سفیر کا کردار ادا کرے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کوپاکستان ٹرانسپیرنسی اینڈ اکائونٹیبلیٹی انڈیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے سروے کے نتائج کا حوالہ دیا اور کہا کہ بدعنوانی کے بارے میں تاثر اکثر زمینی حقائق سے مختلف ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ملک کے بارے میں منفی بیانیوں کی جگہ حقائق اور اعداد و شمار کو دینا ہوگا۔انہوں نے خبردار کیا کہ سیاسی مقاصد کے لیے بار بار منفی بیانیے نے قومی اعتماد کو کمزور کیا، سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی، کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ کیا اور برآمدات کو نقصان پہنچایا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر منفی تصورات کا تدارک نہ کیا جائے تو وہ حقائق کو مسخ کر سکتے ہیں اور قومی ترقی کی رفتار سست کر دیتے ہیں۔ایف پی سی سی آئی کو قومی مکالمے میں شفافیت اور احتساب کو بھرپور انداز میں اجاگر کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ یہ اصول اچھی حکمرانی کی بنیاد ہیں اور شہریوں کے اطمینان، سرمایہ کاروں کے اعتماد، کاروبار دوست ماحول اور پائیدار قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی ٹی اے پی کی مسلسل نگرانی ایک مؤثر مانیٹرنگ اور اصلاحاتی ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتی ہے کہ قابلِ پیمائش کارکردگی ہی بہتری کا باعث بنتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ دنیا کا کوئی بھی ملک مکمل طور پر بدعنوانی سے پاک نہیں ہوتا، فرق اس کی سطح، ردعمل اور تاثر میں ہوتا ہے،پاکستان چیلنجز کے باوجود وسیع صلاحیتوں اور ٹیلنٹ کا حامل ملک ہے۔ بین الاقوامی جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ آئی ایم ایف، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، فچ اور موڈیز سمیت عالمی مالیاتی اداروں اور معروف بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے پاکستان میں حالیہ معاشی بہتری کو تسلیم کیا ہے ، مگر افسوس کہ ہم خود ہی اپنی حوصلہ شکنی کرتے رہتے ہیں۔
انہوں نے ایف پی سی سی آئی کے اقدام کو سراہا اور کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ محض مصنوعات سے آگے بڑھ کر برانڈز اور ویلیو چینز کی تعمیر پر توجہ دے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کے ممالک قومی مصنوعات فروخت کرنے سے پہلے برانڈ فروخت کرتے ہیں، معیار پر اعتماد کا آغاز ملک پر اعتماد سے ہوتا ہے۔ انہوں نے مقامی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اضلاع کو برآمدی مراکز میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جن میں گوادر کی مقامی غذائی مصنوعات سے لے کر تھر کی دستکاری تک شامل ہیں اور کہا کہ پاکستان کا ثقافتی اور جغرافیائی تنوع اس کا بنیادی معاشی اثاثہ ہے۔
انہوں نے کاروباری افراد کو اعلیٰ کارکردگی کی سوچ اپنانے کی ترغیب بھی دی اور کہا کہ مستقل قیادت، اعتماد اور تسلسل قومی ترقی اور عالمی مسابقت کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کاروبار میں ’’ارشد ندیم مائنڈ سیٹ‘‘ اپنانے کی ضرورت ہے جو اعلیٰ کارکردگی کے لیے مقابلہ کرے اور پاکستان کے لیے کامیابی سمیٹے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ قوم کی تعمیر کا آغاز اندرون و بیرون ملک اعتماد کی بحالی سے ہوتا ہے۔








