کابل / نیویارک۔23دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام اور یونیسیف نے افغانستان میں بڑھتی ہوئی غربت اور شدید غذائی قلت پر رپورٹ جاری کر دی ہے۔تشویشناک رپورٹ کے مطابق، افغان طالبان رجیم کی نااہلی اور دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کی وجہ سے ایک کروڑ 70 لاکھ افراد موسم سرما میں شدید بھوک کا شکار ہیں، جبکہ 2 سال سے کم عمر کے 90 فیصد بچے غذائی …
افغانستان میں انسانی بحران، طالبان دور میں بھوک اور افلاس کی سنگین صورتحال، اقوام متحدہ نے رپورٹ جاری کردی
کابل / نیویارک۔23دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام اور یونیسیف نے افغانستان میں بڑھتی ہوئی غربت اور شدید غذائی قلت پر رپورٹ جاری کر دی ہے۔تشویشناک رپورٹ کے مطابق، افغان طالبان رجیم کی نااہلی اور دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کی وجہ سے ایک کروڑ 70 لاکھ افراد موسم سرما میں شدید بھوک کا شکار ہیں،
جبکہ 2 سال سے کم عمر کے 90 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہو چکے ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بچوں کی غذائی قلت گزشتہ دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور متاثرہ بچوں کی تعداد 40 لاکھ سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک طرف افغان عوام سطحِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، دوسری طرف طالبان حکمران بدعنوانی اور غیر قانونی ذرائع سے حاصل شدہ رقوم پر عیاشیاں کر رہے ہیں۔ روزگار کے محدود مواقع اور کمزور معیشت نے عام آدمی کا جینا محال کر دیا ہے۔









