افغانستان میں رہائش کا شدید بحران، 42 لاکھ افراد کو ہنگامی امداد کی ضرورت ہے ،اقوام متحدہ

افغانستان میں رہائشی بحران سنگین شکل اختیار کر گیا ہے، جہاں اقوام متحدہ کے ادارے یواین ہیبی ٹاٹ کے مطابق 2026 کے دوران تقریباً 42 لاکھ افراد کو ہنگامی رہائش اور بنیادی امدادی سامان کی ضرورت ہوگی۔

کابل۔20اپریل (اے پی پی):افغانستان میں رہائشی بحران سنگین شکل اختیار کر گیا ہے، جہاں اقوام متحدہ کے ادارے یواین ہیبی ٹاٹ کے مطابق 2026 کے دوران تقریباً 42 لاکھ افراد کو ہنگامی رہائش اور بنیادی امدادی سامان کی ضرورت ہوگی۔شنہوا کےمطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی، قدرتی آفات اور بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے، جس کے باعث لاکھوں افراد محفوظ رہائش سے محروم ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے نے اپنے بیان میں زور دیا ہے کہ اب فوری اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ سب کے لیے مناسب رہائش کو یقینی بنایا جا سکے۔انسانی ہمدردی کے اداروں نے عالمی برادری سے فوری امداد کی اپیل کی ہے تاکہ متاثرہ افراد کو محفوظ رہائش فراہم کی جا سکے اور انہیں مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو افغانستان میں انسانی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی معاشی دباؤ اور قدرتی آفات کے اثرات سے دوچار ہے۔