اقوام متحدہ ۔22نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ترقیاتی پروگرام(یو این ڈی پی)نے خبرادر کیا ہے کہ افغان عوام کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی کے قابل نہ ہونے ،کم ڈیپازٹس اور نقد رقوم کی فراہمی میں کمی کے باعث افغانستان کا مالیاتی نظام چند ماہ میں تباہی سے دوچار ہو سکتا ہے اور اس کی قیمت بھاری بھر کم ہو سکتی ہے لہذا افغانستان کے بینکوں کو …
افغانستان کے بینکوں کو سہارا دینے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، یو این ڈی پی کی رپورٹ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔22نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ترقیاتی پروگرام(یو این ڈی پی)نے خبرادر کیا ہے کہ افغان عوام کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی کے قابل نہ ہونے ،کم ڈیپازٹس اور نقد رقوم کی فراہمی میں کمی کے باعث افغانستان کا مالیاتی نظام چند ماہ میں تباہی سے دوچار ہو سکتا ہے اور اس کی قیمت بھاری بھر کم ہو سکتی ہے لہذا افغانستان کے بینکوں کو سہارا دینے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق یو این ڈی پی نے پیر کو افغانستان کے بینکنگ ار مالیاتی نظام پر پیر کو جاری3صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ میں کہا کہ افغانستان کے بینکنگ نظام کی تباہی کے منفی بلکہ خطرناک معاشی سماجی اثرات مرتب ہوں گے اور موجودہ رجحانات اور رقوم نکالنے پر عائد پابندیوں کے مطابق رواں سال کے آخر تک افغانستان کے ڈیپازٹ بیس کا تقریباً 40 فیصد ختم ہو جائے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان کا مالیاتی اور بینک ادائیگی کا نظام درہم برہم ہے لہذا افغانستان کی محدود پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے اور بینکاری نظام کو تباہ ہونے سے روکنے کے لیے بینکنگ کے مسئلہ کو جلد حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ افغانستان میں یو این ڈی پی کے سربراہ عبداللہ درداری نے کہا کہ طالبان رہنمائوں پر یکطرفہ اور بین الاقوامی پابندیاں افغانستان کے مالیاتی اور بینکنگ کے نظام کو تباہی سے بچانے کی راہ کی تلاش میں رکاوٹ ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم بینکنگ کے شعبے کی مدد کرتے ہیں تو یہ طالبان کی مدد نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس تباہ کن صورتحال سے بچنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے تمام آپشنز پر غور کرنے کی ضرورت ہے اور 3ماہ قبل ناقابل تصور ہوا کرتا تھا اسے اب سوچنے کے قابل ہونا پڑے گا۔ یو این ڈی پی نے کہا کہ اگر افغان بینکنگ سسٹم ناکام ہو جاتا ہے تو اسے دوبارہ بنانے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔
اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں افغان بینکنگ سسٹم کو بچانےکیلئے ڈیپازٹ انشورنس سکیم، مختصر، درمیانی مدت کی ضروریات کے لیے مناسب لیکویڈیٹی یقینی بنانے، کریڈٹ گارنٹی اور قرضوں کی ادائیگی میں تاخیر کا اختیار دیئے جانے کی تجاویز پیش کی ہیں اور اس کے لیے بین الاقوامی مالیاتی ادارے جیسے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے تعاون اور مدد کی ضرورت ہو گی۔
یو این ڈی پی نے کہا کہ بینکوں نے نئے کریڈٹ کی توسیع بند کر دی ہے اور غیر فعال قرضے 2020 کے آخر سے ستمبر میں تقریباً دوگنا ہو کر 57 فیصد ہو گئے ہیں۔ عبداللہ درداری نے کہا کہ اگر غیر فعال قرضوں کی یہ شرح اسی طرح جاری رہی تو آئندہ 6 ماہ میں بینک بند ہو نے کا اندیشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ لیکویڈیٹی کا بھی مسئلہ رہا ہے۔ افغان بینکوں کا زیادہ تر انحصار امریکی ڈالر کی ترسیل پر تھا جو اب رک گئی ہے۔انہوں نےافغانستان میں قحط سے بچنے کی ضرورت اور مالیاتی تجارت کے لیے بینکنگ نظام کی تباہی کے نتائج بارے خبردار کیا۔
"افغانستان نے گزشتہ سال تقریباً 7 بلین ڈالر مالیت کی اشیا ، مصنوعات اور خدمات زیادہ تر کھانے پینے کی اشیا درآمد کیں اگر تجارتی مالیات نہیں ہے تو رکاوٹ بہت زیادہ ہے کیونکہ بینکنگ نظام کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔








