واشنگٹن، 26 جنوری (اے پی پی)::واشنگٹن، 26 جنوری (اے پی پی): امریکہ میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ افغانستان میں امن و استحکام کی ضرورت اور اس بات کو یقینی بنانے کے بارے میں مکمل اتفاق رائے رکھتے ہیں کہ افغان سرزمین دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔ یونیورسٹی آف ورجینیاکے زیر اہتمام پاکستان امریکہ تعلقات اور جنوبی ایشیا …
افغان سرزمین دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے امریکا اور پاکستان مکمل طور پر متفق ہیں ، پاکستانی سفیراسد مجید خان

مزید خبریں
واشنگٹن، 26 جنوری (اے پی پی)::واشنگٹن، 26 جنوری (اے پی پی): امریکہ میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ افغانستان میں امن و استحکام کی ضرورت اور اس بات کو یقینی بنانے کے بارے میں مکمل اتفاق رائے رکھتے ہیں کہ افغان سرزمین دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔
یونیورسٹی آف ورجینیاکے زیر اہتمام پاکستان امریکہ تعلقات اور جنوبی ایشیا میں علاقائی محرکات پر ایک ورچوئل مباحثے میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک ایک جامع حکومت کی اہمیت اور خواتین کے حقوق اور اور لڑکیوں کی تعلیم سمیت انسانی حقوق کے تحفظ پر بھی متفق ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ فی الحال، سب سے اہم مسئلہ افغانستان میں انسانی بحران اور معاشی تباہی کو روکنا ہے جو کہ مہاجرین کے بحران کے ساتھ ساتھ افغانستان میں دہشت گردی اور منشیات کی تجارت کو دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔
سفیر اسد مجید خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگرچہ افغانستان میں انسانی بحران سے بچنے کے لیے بروقت اقدامات اہم ہیں، لیکن وہ صرف ایک "بینڈ ایڈ” کے طور پر کام کریں گے اور افغانستان میں ایک پائیدار معیشت بنانے کے لیے بین الاقوامی برادری کو بہت کچھ اقدامات کرنا ہں گے ۔ یونیورسٹی آف ورجینیاکے وائس پرووسٹ برائے عالمی امور، سفیر سٹیو مل نے مباحثے کی صدارت کی جبکہ بیٹن سکول فار پبلک پالیسی کے ڈین ایان سولومن نے خیر مقدمی کلمات کہے۔
اپنے افتتاحی کلمات میں سفیر اسد مجید خان نے پاکستان کے متحرک اور بھرپور ثقافتی اور تہذیبی ورثے، ملک کا دلکش منظر، اس کی جیو اسٹریٹجک اہمیت اور جیو اکنامکس کے حکومتی وژن پر روشنی ڈالی، جو بین العلاقائی تجارت اور رابطوں میں اضافہ پر مبنی ہے۔ تاکہ پاکستان کے کاروباری برادری کی طرف سے پیش کردہ بہت بڑی صلاحیت اور اس کے بے پناہ قدرتی وسائل سے استفادہ اٹھایا جاسکے ۔
پاک امریکہ تعلقات پر بات کرتے ہوئے سفیر اسد مجید خان نے کہا کہ دونوں ممالک 2022 میں سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران اعلیٰ سطح کے دوطرفہ تبادلوں کی ایک صحت مند سلسلہ شروع ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی اور آب و ہوا سے متعلق ادارہ جاتی مکالمے پہلے ہی ہو چکے ہیں جبکہ تجارت، سرمایہ کاری اور صحت کے مذاکرات جلد ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ امریکہ اب بھی پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی اور غیر ملکی ترسیلات کا بڑا ذریعہ ہے۔
سفیر اسد مجید خان نے دونوں ممالک اور معاشروں کے درمیان پل بنانے والے پاکستانی نژاد امریکیوں کے اہم کردار کو بھی سراہا۔انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ایک پرامن ہمسائیگی پاکستان کے جیو اکنامکس کے وژن کو حاصل کرنے کے لیے اہم ہے۔ تاہم بھارت کی ہٹ دھرمی اور جموں و کشمیر کے بنیادی تنازعہ سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پر پاکستان کے ساتھ بات چیت کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے سے انکار جنوبی ایشیا کی اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
سفیر نے مزید کہا کہ دنیا بھر کے آزاد تجزیہ کار جمہوری طور پر نچلی سطح پر بڑھتے ہوئے غیر لبرل ازم اور مسلمانوں کی ممکنہ نسل کشی سمیت پورے بھارت میں اقلیتوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال خاص طور پر سنگین ہے کیونکہ بھارت نے مقبوضہ علاقے کے لوگوں پر اپنے وحشیانہ جبر کو دوگنا کر دیا ہے۔
عالمی برادری کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت پر 5 اگست 2019 کے اپنے غیر قانونی اقدامات کو واپس لینے کے لئے دباؤ ڈالے ، جو جموں و کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہیں ، اور غیرقانونی طور زیرقبضہ مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے اور پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کرے۔ تاکہ جموں و کشمیر کا تنازعہ حل کیاجاسکے ۔اس تقریب میں سوالات اور جوابات کا سیشن بھی شامل تھا اور اس میں یونیورسٹی آف ورجینیاکے طلباء، اکیڈمیا ئ کے اراکین اور تھنک ٹینک کمیونٹی نے شرکت کی۔








