افغان صوبہ نورستان میں طوفانی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں،اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور نے کہا ہے کہ افغانستان کے مختلف صوبوں میں اچانک آنے والے طوفانی سیلاب کے باعث کم از کم 26 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں امدادی اور تلاش کی کارروائیاں جاری ہیں۔ او سی ایچ اے کے مطابق شدید بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے سب سے زیادہ نقصان پہاڑی صوبہ نورستان …

اقوام متحدہ ۔23جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور نے کہا ہے کہ افغانستان کے مختلف صوبوں میں اچانک آنے والے طوفانی سیلاب کے باعث کم از کم 26 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں امدادی اور تلاش کی کارروائیاں جاری ہیں۔ او سی ایچ اے کے مطابق شدید بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے سب سے زیادہ نقصان پہاڑی صوبہ نورستان میں ہوا، جہاں 23 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

سیلابی ریلوں نے متعدد مکانات، بازاروں اور سڑکوں کو تباہ کر دیا، جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔او سی ایچ اے کے مطابق 20 جولائی کو ہونے والی شدید بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب نے پاکستان کے ساتھ طورخم سرحدی گزرگاہ کے قریب قائم افغان مہاجرین کے واپسی مرکز میں بھی تباہی مچائی، جہاں تین افغان پناہ گزین جاں بحق اور نو دیگر زخمی ہوئے۔نورستان کے دارالحکومت پارون شہر میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی، جہاں مقامی وقت کے مطابق تقریباً سہ پہر 3 بجے اچانک آنے والے سیلاب نے رہائشی علاقوں اور تجارتی مراکز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ابتدائی جائزوں کے مطابق کم از کم 22 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے جبکہ 45 مکانات کو شدید نقصان پہنچا۔ سیلاب کے باعث چار پل، سڑکوں کے چھ حصے، آبپاشی کی نہریں اور حفاظتی دیواریں بھی متاثر ہوئیں، جس سے متاثرہ علاقوں تک رسائی میں مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔اقوام متحدہ کے امدادی ادارے او سی ایچ اے کی عہدیدار اولگا چیریوکو نے بتایا کہ شدید موسمی صورتحال کے باعث مکانات، سڑکوں، پلوں، پانی کی فراہمی کے نظام، آبپاشی کے ڈھانچے اور لوگوں کے روزگار کو نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت اولین ترجیح انسانی جانیں بچانا اور ان افراد تک پہنچنا ہے جو اب بھی لاپتہ یا زخمی ہو سکتے ہیں، تاہم پانی اترنے کے بعد متاثرہ خاندانوں کی ضروریات ہنگامی امداد سے کہیں زیادہ وسیع ہوں گی۔

او سی ایچ اے کے مطابق پانی کی فراہمی کا نظام متاثر ہونے سے تقریباً ایک ہزار خاندانوں کو صاف پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ تقریباً 10 ہیکٹر زرعی زمین بھی متاثر ہوئی ہے، جس سے مقامی آبادی کے روزگار کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔سیلاب سے امدادی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں، جہاں غیر سرکاری تنظیموں کے دفاتر، گودام، گاڑیاں اور دیگر سامان کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ ایک امدادی کارکن کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق منگل تک تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری تھیں، جبکہ موبائل طبی ٹیمیں، طبی سامان اور ہنگامی خوراک متاثرہ علاقوں میں پہنچائی جا رہی تھی۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مزید معلومات سامنے آنے پر ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔یونیسیف اور اس کے شراکت دار ادارے پارون میں ایک عارضی طبی مرکز قائم کر رہے ہیں تاکہ متاثرین کو ہنگامی طبی امداد اور صدمے سے نمٹنے کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

نورستان کے علاوہ لغمان صوبے میں بھی سیلاب سے زرعی زمینوں اور آبپاشی کے نظام کو نقصان پہنچا، تاہم ابتدائی جائزے کے وقت وہاں مکانات کو نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔او سی ایچ اے کے مطابق متاثرہ خاندانوں کی فوری ضروریات میں ہنگامی رہائش، خوراک، صاف پانی، حفظانِ صحت کا سامان، طبی سہولیات، نفسیاتی معاونت اور گھریلو ضروری اشیا شامل ہیں۔اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ دشوار گزار پہاڑی علاقے، تباہ شدہ سڑکیں اور دور دراز علاقوں تک محدود رسائی امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ مزید بارشوں کی پیش گوئی کے باعث حکام نے اضافی سیلاب کے خطرے سے بھی آگاہ کیا ہے۔