افغان طالبان کے دورِ حکومت میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ، عالمی برادری کا سخت ردِعمل

اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):افغان طالبان کے اقتدار کے چار سال مکمل ہونے پر عالمی برادری نے افغانستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، خواتین پر پابندیوں اور بنیادی آزادیوں کی مسلسل پامالی پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ افغان میڈیا آماج نیوز کے مطابق 56 ممالک نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے طالبان حکومت کے تحت خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ امتیازی …

اسلام آباد۔12دسمبر (اے پی پی):افغان طالبان کے اقتدار کے چار سال مکمل ہونے پر عالمی برادری نے افغانستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، خواتین پر پابندیوں اور بنیادی آزادیوں کی مسلسل پامالی پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ افغان میڈیا آماج نیوز کے مطابق 56 ممالک نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے طالبان حکومت کے تحت خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک، تعلیم اور روزگار پر پابندیوں اور عوامی زندگی سے خارج کئے جانے کی سخت مذمت کی ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ افغان خواتین کی تعلیم، ملازمت اور نقل و حرکت پر پابندیاں انسانی وقار، عالمی اصولوں اور بنیادی حقوق کے صریح منافی ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی نائب خصوصی نمائندہ برائے افغانستان جیورگیٹا گیگنن نے کہا کہ طالبان کے حکمران خواتین کو منظم طریقے سے معاشرتی، سیاسی اور عوامی شعبہ جات سے باہر کر رہے ہیں جبکہ لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے معاون سیکرٹری جنرل ٹام فلیچر نے افغانستان میں بھوک اور غربت کی سنگین حالت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بھوک سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 74 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جو شدید انسانی بحران کی علامت ہے۔ سلووینیا کی نمائندہ ٹانجا فایون نے کہا کہ طالبان حکومت میں بحران کے حل کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔

چین کے مستقل نمائندے فو کانگ نے افغانستان کی صورتحال کو انسانی بحران اور دہشت گردی کے چیلنجز کے لحاظ سے پیچیدہ اور تشویشناک قرار دیا۔ کوریائی نمائندے نے بتایا کہ طالبان کے سخت اقدامات نے خواتین کو اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں میں کام کرنے سے روک رکھا ہے جو انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ ہے۔ روس کے نمائندے واسلی نیبنزیا نے کہا کہ افغانستان میں بنیادی حقوق اور آزادیوں کے احترام کی فوری ضرورت ہے جبکہ یونانی نمائندے نے خواتین، لڑکیوں اور اقلیتوں کی صورتحال کو "انتہائی سنگین” قرار دیا۔

ڈنمارک کی نمائندہ کرسٹینا مارکس لسن نے زور دیا کہ طالبان کے ساتھ عالمی سطح کے معاملات میں افغان خواتین کے حقوق کو مرکزی اہمیت دی جائے۔ برطانوی نمائندے کے مطابق طالبان کے چار سالہ دورِ حکومت میں خواتین پر جبر اور پابندیوں میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ میں پانامہ کے نمائندے ایلوی الفارو ڈی البا نے کہا کہ آج افغان خواتین دنیا کی بدترین انسانی حقوق خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ ایران کے نمائندے نے اپنے بیان میں کہا کہ خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیاں نہ اسلامی تعلیمات سے مطابقت رکھتی ہیں اور نہ ہی انسانی وقار سے۔

بیانات کے مطابق عالمی برادری نے طالبان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی آمرانہ پالیسیوں نے افغانستان کو شدید معاشی، سماجی اور انسانی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ بیانات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خواتین کو تعلیم، روزگار اور بنیادی آزادیوں سے محروم رکھ کر طالبان نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں بلکہ ملک کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

عالمی نمائندوں نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں انسانی حقوق کے تحفظ، خواتین کی شمولیت اور بنیادی آزادیوں کی بحالی کے بغیر طالبان کو عالمی سطح پر تسلیم کئے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

 

مزید خبریں