اقراء یونیورسٹی اسلام آباد میں فارماسیوٹیکل سائنسز پر قومی کانفرنس، جدید تحقیق اور اختراعات پر تبادلہ خیال

اقراء یونیورسٹی اسلام آباد میں فارماسیوٹیکل سائنسز پر قومی کانفرنس، جدید تحقیق اور اختراعات پر تبادلہ خیال

اسلام آباد۔13جون (اے پی پی):اقراء یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کے شعبہ فارمیسی نے ’’آئی یو۔انسپائر 2026‘‘کے عنوان سے فارماسوٹیکل اختراعات اور تحقیقی برتری پر اپنی پہلی قومی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ کانفرنس میں ملک بھر سے ماہرین تعلیم،محققین، سائنسدانوں، صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد، صنعتکاروں، ریگولیٹری اداروں کے نمائندوں اور طلبہ نے شرکت کی۔ کانفرنس کا مقصد فارماسو ٹیکل سائنسز میں ابھرتے ہوئے رجحانات، جدید تحقیق اور مستقبل کے صحت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر حل پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ اس موقع پر علمی و تحقیقی تعاون کو فروغ دینے اور مختلف شعبوں کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا اہتمام کیا گیا۔تقریب کا آغاز کانفرنس سیکرٹری ڈاکٹر فرزین خان کے استقبالیہ خطاب سے ہواجنہوں نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور کانفرنس کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔

اس موقع پر کانفرنس کے انعقاد میں تعاون کرنے والی کمپنی ہربیوٹکس نیوٹراسوٹیکلز کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا گیا۔ شرکاء کو اقراء یونیورسٹی اور شعبہ فارمیسی کی علمی، تحقیقی اور صحت کے شعبے میں خدمات سے بھی آگاہ کیا گیا۔کانفرنس کی سرپرستی پروفیسر ڈاکٹر اعتزاز احمد نے کی جبکہ پروفیسر ڈاکٹر کشور سلطانہ شریک سرپرست اور شعبہ فارمیسی کی سربراہ تھیں۔ ڈاکٹر ماریہ میر کانفرنس چیئر اور ڈاکٹر فرزین خان کانفرنس سیکرٹری رہیں۔ کانفرنس کے انتظامی امور میں ڈاکٹر سید ذکی حسین رضوی، ڈاکٹر محمد عمران اسد، ڈاکٹر محمد نعمان عارف اور ڈاکٹر تابندہ عظیم نے اہم کردار ادا کیا۔افتتاحی اجلاس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی جن میں وائس چانسلر اقراءیونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر نثار اکرم، یونیورسٹی آف بونیر کے وائس چانسلر اور مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر جمشید علی خان، ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبیداللہ، راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عثمان شوکت اور شعبہ فارمیسی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد عمران شامل تھے۔

دیگر مقررین میں ڈریپ کے نمائندے ڈاکٹر اختر عباس خان، سیکرٹری کوالٹی کنٹرول بورڈ اسلام آباد سردار شبیر احمد، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر حضرت بلال، وزارت صحت کے ڈپٹی سیکرٹری ، ہربیوٹکس نیوٹراسوٹیکلز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر دانش خان، پیرا ماؤنٹ فارما کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ناصر ایم قریشی اور یونیورسٹی آف سرگودھا کی پروفیسر ڈاکٹر سائرہ اظہر شامل تھیں۔کانفرنس کےکلیدی سیشنز میں کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے فیکلٹی آف سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر جمشید اقبال نے فارماسوٹیکل تحقیق میں جدید پیش رفت اور مستقبل کے امکانات پر خطاب کیا جبکہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار جینومکس اینڈ ایڈوانسڈ بائیوٹیکنالوجی کی سینئر سائنٹیفک آفیسر ڈاکٹر شکیرا غضنفر نے بائیوٹیکنالوجی،جینومکس اور ٹرانسلیشنل ریسرچ کے شعبوں میں اپنی مہارت اور تجربات سے شرکاء کو آگاہ کیا۔علمی پروگرام میں ملک کی مختلف جامعات اور اداروں سے تعلق رکھنے والے آٹھ مدعو مقررین نے بھی شرکت کی۔

انہوں نے جدید علاج معالجہ کے طریقوں، ریگولیٹری معاملات، مالیکیولر بائیولوجی اور فارماسوٹیکل تحقیق کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔کانفرنس کی ایک نمایاں سرگرمی سائنسی پوسٹر مقابلہ تھا جس میں انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ نے اپنی تحقیقی کاوشیں پیش کیں۔ اس کے علاوہ زبانی پریزنٹیشن سیشنز کے دوران محققین نے اپنے تحقیقی منصوبے ماہرین کے پینل کے سامنے پیش کئے، جس سے سائنسی ابلاغ اور تحقیقی صلاحیتوں کو فروغ ملا۔تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی، مقررین، صنعتی شعبے کے نمائندوں، فیکلٹی ممبران اور طلبہ منتظمین کو شیلڈز اور یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔کانفرنس نے اکیڈمیا اور صنعت کے درمیان روابط مضبوط بنانے،فارماسیوٹیکل شعبے کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال اور نئے تحقیقی مواقع تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آئی یو۔انسپائر 2026 ملک کی نمایاں فارماسوٹیکل سائنس کانفرنسوں میں شامل رہی جس میں 27 ممتاز تعلیمی اداروں سے 250 سے زائد شرکاء نے شرکت کی۔

کانفرنس میں دو کلیدی اور آٹھ مدعو مقررین سمیت مجموعی طور پر 10 ممتاز ماہرین نے خطاب کیا جبکہ 70 تحقیقی مقالے پیش کئے گئے جن میں 25 زبانی اور 45 پوسٹر پریزنٹیشنز شامل تھیں۔ کانفرنس میں 150 سے زائد عمومی شرکاء کے علاوہ ملک بھر کے 25 شعبہ جاتی سربراہان، ڈینز اور ڈائریکٹرز کی شرکت نے اسے مزید اہمیت بخشی۔ منتظمین کے مطابق کانفرنس نے تحقیقی سرگرمیوں اور پیشہ ورانہ ترقی کے فروغ کے اپنے مقاصد کامیابی سے حاصل کیے اور فارماسوٹیکل سائنسز کے میدان میں اقراء یونیورسٹی کے عزم کا عملی مظہر ثابت ہوئی۔