اقوامِ متحدہ میں چین کی "گلوبل گورننس”مہم کا آغاز،پاکستان کی بھرپور حمایت

اقوام متحدہ ۔10دسمبر (اے پی پی):عالمی نظم و نسق میں زیادہ منصفانہ اور مساویانہ نظام کے قیام کے لیے چین کے قائم کردہ "گروپ آف فرینڈز آف گلوبل گورننس"نےاقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں اپنا افتتاحی اجلاس منعقد کیا، جس میں پاکستان نے اس پیش رفت کو موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں "انتہائی ضروری" قرار دیا۔تقریب کی صدارت اقوامِ متحدہ میں چین کے مستقل مندوب سفیر فو کانگ نے کی، …

اقوام متحدہ ۔10دسمبر (اے پی پی):عالمی نظم و نسق میں زیادہ منصفانہ اور مساویانہ نظام کے قیام کے لیے چین کے قائم کردہ "گروپ آف فرینڈز آف گلوبل گورننس”نےاقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں اپنا افتتاحی اجلاس منعقد کیا، جس میں پاکستان نے اس پیش رفت کو موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں "انتہائی ضروری” قرار دیا۔تقریب کی صدارت اقوامِ متحدہ میں چین کے مستقل مندوب سفیر فو کانگ نے کی، جبکہ گروپ کے لگ بھگ 40 بانی رکن ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔

چینی سفیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ گروپ ایک کھلا اور شمولیتی پلیٹ فارم ثابت ہوگا جو بہتر عالمی طرزِ حکمرانی کے لیے اجتماعی کاوشوں کو یکجا کرے گا۔پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے گروپ کے آغاز پر چینی سفیرکو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب دنیا کثیرالجہتی سفارتکاری پر کم ہوتے اعتماد، طویل تنازعات، متاثرہ عالمی سپلائی چینز، بڑھتے قرضوں کے بوجھ، گہری معاشی ناہمواریوں اور موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات جیسے چیلنجز سے دوچار ہے۔

انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے گلوبل گورننس انیشیٹو کو "دوراندیش قیادت کا مظہر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہترین طرزِ حکمرانی اور جدید خطوط پر مشتمل ایک ایسا خاکہ پیش کرتا ہے جو باہم جڑے عالمی بحرانوں کا مؤثر حل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے بتایا کہ پاکستان اس اقدام کی مکمل حمایت کرتا ہے، جیسا کہ پاکستانی وزیراعظم محمد شہباز شریف اسے انسانیت کو درپیش امن و ترقی کے چیلنجز سے نمٹنے اور کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے کی سمت ایک تاریخی قدم قرار دے چکے ہیں۔چینی اقدام پانچ بنیادی اصولوں ریاستی خودمختاری و مساوات، بین الاقوامی قانون کی حکمرانی، کثیرالجہتی، عوامی مرکزیت اور عملی نتائج پر مبنی ہے۔

پاکستانی مندوب کے مطابق یہ اصول پاکستان کی اقتصادی ترجیحات خصوصاً ایک منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل، ترقی پذیر ممالک کے مفادات کے تحفظ، تنازعات کے پرامن حل، اور عوام کی خود ارادیت کے فروغ کے سلسلے میں قریبی مطابقت رکھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی اصلاحات کو آگے بڑھانا چاہیے جو مراعات اور تقسیم سے پاک ہوں اور تمام ممالک کے مشترکہ مفادات کی عکاسی کریں۔آخر میں انہوں نے چین کے بین الاقوامی تعاون کے مسلسل عزم اور کثیرالجہتی سفارتکاری کو نئی قوت دینے کی کوششوں کو سراہا۔

مزید خبریں