اقوامِ متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریش نے ایل نینو کے باعث بڑھتی ہوئی شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی بحران تیزی سے شدت اختیار کر رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کا شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔1اگست (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریش نے ایل نینو کے باعث بڑھتی ہوئی شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی بحران تیزی سے شدت اختیار کر رہا ہے۔شنہوا کے مطابق انتونیو گوتریس نے عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او ) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین پیش گوئیوں کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ موسمِ گرما کی غیر معمولی گرمی، تباہ کن جنگلاتی آگ، شدید درجہ حرارت کے باعث ہزاروں اموات اور سمندری سطح کے درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ محض ایک آغاز ہے، جبکہ اصل خطرات ابھی باقی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایل نینو مزید مضبوط ہو رہا ہے اور پہلے سے گرم ہوتی زمین کے درجہ حرارت میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ ان کے مطابق بحرالکاہل کے وہ پانی، جو اس موسمی رجحان کا سبب بنتے ہیں، ایل نینو کے اس مرحلے میں کبھی اتنے زیادہ گرم نہیں رہے، جبکہ درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔گوتریش نے خبردار کیا کہ اکتوبر تک دنیا کے تقریباً تمام زمینی علاقوں میں معمول سے زیادہ گرمی رہنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل نینو صرف گرمی ہی نہیں لاتا بلکہ دنیا بھر میں بارشوں کے نظام کو بھی شدید متاثر کرتا ہے۔ بھارت میں مون سون کی بارشیں پہلے ہی معمول سے کم ہیں، جبکہ وسطی امریکہ، کیریبین، جنوبی امریکہ کے بعض حصوں، جنوبی ایشیا، جنوب مغربی بحرالکاہل، یورپ اور افریقہ میں زیادہ گرم اور خشک موسم کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شواہد واضح ہیں کہ موسمیاتی بحران خطرناک رفتار سے بڑھ رہا ہے۔اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے چار اہم اقدامات تجویز کیے: شدید گرمی سے لوگوں کا تحفظ، کام کی جگہوں کو محفوظ بنانا، شہروں اور عمارتوں کو بڑھتی گرمی کے مطابق ڈھالنا، اور موسمیاتی تبدیلی کے بنیادی اسباب، خصوصاً فوسل فیول کے استعمال، کو کم کرنا۔انہوں نے زور دیا کہ ہر ملک اور ہر شہر کو شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے صحت سے متعلق عملی منصوبے، مؤثر ابتدائی انتباہی نظام اور ایسے عوامی صحت کے اقدامات وضع کرنے چاہییں جو بروقت ہر طبقے تک پہنچ سکیں۔
ساتھ ہی ماحول دوست ٹھنڈک کی سہولیات تک مساوی رسائی بھی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے خبردار کیا کہ آج منظور ہونے والا ہر نیا فوسل فیول منصوبہ مستقبل کی ہیٹ ویوز کو مزید خطرناک بنائے گا اور عالمی سلامتی کو کمزور کرے گا۔انہوں نے کہا کہ شدید گرمی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ موجودہ حقیقت ہے۔ اگر ہم نے لوگوں کے تحفظ اور موسمیاتی بحران کی بنیادی وجوہات کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو اس کے مہلک اثرات مزید بڑھ جائیں گے۔








