اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کےلئے معاہدات کی حرمت برقرار رکھنے کے موضوع پراجلاس

اسلام آباد۔31جنوری (اے پی پی):پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کاایریا فارمولہ اجلاس بعنوان ”بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کےلئے معاہدات کی حرمت برقرار رکھنا“ منعقد کیا۔اجلاس میں سلامتی کونسل کے اراکین کے علاوہ دنیا کے تمام خطوں سے تعلق رکھنے والے رکن ممالک نے شرکت کی۔ دفتر خارجہ کی جانب سے ہفتہ کو جاری بیان کے مطابق اجلاس میں ممتاز ماہرین پر مشتمل ایک پینل نے …

اسلام آباد۔31جنوری (اے پی پی):پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کاایریا فارمولہ اجلاس بعنوان ”بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کےلئے معاہدات کی حرمت برقرار رکھنا“ منعقد کیا۔اجلاس میں سلامتی کونسل کے اراکین کے علاوہ دنیا کے تمام خطوں سے تعلق رکھنے والے رکن ممالک نے شرکت کی۔

دفتر خارجہ کی جانب سے ہفتہ کو جاری بیان کے مطابق اجلاس میں ممتاز ماہرین پر مشتمل ایک پینل نے بریفنگ دی جن میں اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے قانونی امور کے معاہدات سیکشن کے سربراہ ڈیوڈ نینوپولوس، ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لاءکے صدر اور پاکستان کے سابق وفاقی وزیر قانون احمر بلال صوفی، انٹرنیشنل پیس انسٹیٹیوٹ کے صدر اور اقوامِ متحدہ کے سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق پرنس زید رعد الحسین اور بوسٹن یونیورسٹی کے پارڈی اسکول آف گلوبل اسٹڈیز کے ڈین ایمیریٹس اور پروفیسر برائے بین الاقوامی تعلقات پروفیسر عادل نجم شامل تھے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے قانونی طور پر پابند دستاویزات ہوتے ہیں جو بالخصوص مشترکہ قدرتی وسائل، سرحدوں اور سرحد پار چیلنجز کے نظم و نسق میں استحکام فراہم کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ تاریخی اور موجودہ مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے جن میں سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کا معاملہ بھی شامل ہے، مقررین نے خبردار کیا کہ یہ بین الاقوامی قانون کو کمزور کرنا اور اجتماعی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنا بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کے دور رس انسانی، ماحولیاتی، امن و سلامتی سے متعلق اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے اگست 2025 میں ثالثی عدالت ِکے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان فیصلوں نے واضح طور پر اس بات کی توثیق کی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور اس کے تحت تنازعات کے حل کے طریقہ کار لازمی اور پابند ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے معاہدات کو کمزور کرنا جو مشترکہ وسائل، سرحدوں اور اعتماد سازی کے اقدامات سے متعلق ہوں عالمی سطح پر ایک خطرناک مثال قائم کرسکتا ہے۔ بحث میں شریک رکن ممالک نے معاہدات کو استحکام اور تنازعات کی روک تھام کے بنیادی ذرائع کے طور پر مرکزی حیثیت دینے کی توثیق کی۔

انہوں نے معاہدات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے اور بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرنے میں اقوامِ متحدہ بالخصوص سلامتی کونسل، سیکرٹری جنرل اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے احتیاطی کردار کو بھی اجاگر کیا۔ پاکستان کی جانب سے منعقدہ سلامتی کونسل کے اس اجلاس کو بین الاقوامی تعلقات میں قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے اور معاہدہ جاتی تعاون کے زوال کو روکنے کےلئے ایک بروقت اور بامعنی اقدام قرار دیتے ہوئے وسیع پیمانے پر سراہا گیا۔