اقوام متحدہ ۔ 11 جون (اے پی پی) پاکستانی اعلی ترین سفارت کار نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی انسانی قانون کی "سنگین" خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم پر بھارت کے خلاف کارروائی اور جواب طلبی کرے جبکہ انہوں نے کشمیری عوام کی دہائیوںسے جاری حالت زار پر روشنی ڈالی جو کہ اب کورونا وائرس وبائی امراض کی لپیٹ میں بھی آئے …
اقوام متحدہ ، پاکستان کا کشمیر میں انسانی قوانین کی خلاف ورزی پر بھارت کے خلاف کارروائی اور جواب طلبی کا مطالبہ سفیر منیر اکرم کا اقتصادی اور سماجی کونسل کے اجلاس میں خطاب

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔ 11 جون (اے پی پی) پاکستانی اعلی ترین سفارت کار نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی انسانی قانون کی "سنگین” خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم پر بھارت کے خلاف کارروائی اور جواب طلبی کرے جبکہ انہوں نے کشمیری عوام کی دہائیوںسے جاری حالت زار پر روشنی ڈالی جو کہ اب کورونا وائرس وبائی امراض کی لپیٹ میں بھی آئے ہوئے ہیں۔سفیر منیر اکرم نے اقتصادی اور سماجی کونسل (ای سی او ایس او سی) کو بتایاکہ کووڈ۔ 19 اور اس کے انسانی اثرات سے لڑنے کی کوششوں کے دوران ہمیں طویل تنازعات، غیر ملکی قبضے اور غیر ملکی تسلط کی صورتحال میں وبائی امراض سے لاحق چیلنجوں سے غافل نہیں رہناچاہیے۔2020 کے انسانی ہمدردی بارے سیشن میں خطاب کرتے ہوئے ۔ انہوں نے 54 رکنی کونسل کو وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے اور اس کے اثرات کو دور کرنے کے لئے اقدامات کے بارے میں بھی بتایا انہوں نے پاکستان کو معاشی بحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے منصوبے شروع کرنے کے بارے میں بھی بتایا ۔پاکستانی مندوب نے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی انسانیت سوز صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں پہلے ہی 10 ماہ کے ڈیجیٹل اور جسمانی لاک ڈاؤن میں گھرے کشمیریوںکو طبی سامان اور سہولیات اور تیز رفتار انٹرنیٹ تک مناسب رسائی سے انکار کیا گیا جبکہ سینکڑوں کشمیری سیاسی رہنماؤں اور مغوی نوجوانوںکو بھارت بھرکی پرہجوم جیلوں میں قیدکردیا گیاجس کی وجہ سے وہ وائرس کا شکار ہوجانے کے خطرہ سے بھی دوچار ہیں ۔سفیر اکرم نے اجلاس کو بتایاکہ بھارتی حکومت نے تمام امریکی اور اقوام متحدہ کے انسان دوست اداروں اور سول سوسائٹی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی دینے سے انکار کیا جو کہ بین الاقوامی انسانی ہمدردی کے قانون کی صریحاخلاف ورزی ہے ۔انہوں نے کہا کہ عین اس وقت جب کہ دنیا کی توجہ کوڈ 19 وائرس سے نمٹنے پرمرکوز ہے بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے آبادیاتی نظام کو تبدیل کرنے کے لئے مزید ‘اقدامات’ کے ذریعہ نئے ‘ڈومیسائل’ قاعدے کو آگے بڑھایا ہے۔ اورمقبوضہ ریاست کواپنی نوآبادیاتی بنانے کے لئے پورے ہندوستان سے آباد کار وہاں لانے شروع کیے ہیں جو کہ اوسلامتی کونسل کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔پاکستانی سفیر نے مزید کہاکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے جگ بندی کرنے کے مطالبہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ، بھارت نے جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول اور ‘ورکنگ باؤنڈری’ کے ساتھ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو بھی تیز کردیا ہے ، انہوں نے یکم جنوری سے اب تک جنگ بندی کی ایک ہزار سے زیادہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی طرف سے اب تک ایل او سی پر پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایاگیا جس کے دوران ، 6 افراد ہلاک اور 82 شہری زخمی ہوئے ہیں ۔چوتھے جنیوا کنونشن کی آرٹیکل 28 کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے ، بھارت نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کی جوابی کارروائیوں سے بچنے کے لئے ، کشمیری شہریوں کی آڑ لے کر بار بار اپنے توپ خانے کشمیری علاقوں میں رکھے ۔ انہوں نے کونسل کو پاکستان کی طرف سے کورونا وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کے حوالے سے بتایا کہ قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) اور نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی (این سی سی) کے تحت ایک مضبوط ادارہ جاتی میکانزم تشکیل دیا گیا ہے تاکہ متفقہ ردعمل کو یقینی بنایا جاسکے۔ان اقدامات میں سمارٹ لاک ڈاؤن ، بین الاقوامی سفری پابندیاں ، سکولوں اور یونیورسٹیوں کی بندش ، عوامی تقاریب کی منسوخی ، مقامی طور پر قرنطنیہ مراکز کا قیام ، ملک بھر میں صحت سے متعلق ردعمل کو تقویت دینے اور ملک بھر کے شہروں میں مختلف سطح پر لاک ڈاون شامل ہیں۔ سفیر اکرم نے کہا کہ وزیر اعظم خان نے روزانہ مزدوری کرنے والے مزدوروں ، کم آمدنی والے خاندانوں ، چھوٹے سے درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے لئے مالی امداد ، صحت اور خوراک کی فراہمی اور ایندھن کے لئے مالی امداد فراہم کرنے کے لئے 8 ارب ڈالر کا ایک پیکیج شروع کیا ہے۔ حکومت نے ہنگامی طور پر نقد امدادی اقدام کا بھی اعلان کیا ہے جس میں COVIDـ19 وبائی امراض سے متاثرہ سب سے کمزور مہاجر خاندانوں کو فائدہ پہنچایاگیا۔انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو کئی اضافی ، چیلنجز درپیش ہیں کیونکہ کم اور درمیانی آمدنی والے ملکوں میں ترسیلات زر بہاؤ میں 20 فیصد کم ہوجانے کی توقع ہے۔ اس لئے ترقی پذیر ممالک کو اس طرح کے بحران پر قابوپانے کے لئے کے لئے مالی گنجائش اور مالی امداد فراہم کرکے کوویڈ 19 کے بڑے پیمانے پر اثرات پر قابو پانے میں مدد فراہم کرنا ہوگی۔”انہوں نے کہا پاکستان نے 595 ملین امریکی ڈالر کی لاگت سے "پاکستان کی تیاری اور رسپانس پلان” (پی پی آر پی) بھی شروع کیا ہے تاکہ ایمرجنسی کی روک تھام ، تیاری ، ردعمل اور صحت کے نظام کو مضبوط بنایاجاسکے ۔








