اقوام متحدہ میں علاقائی مسائل کے حل کے لیے تعاون بڑھانے پر زور

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے عمومی مباحثے میںخطاب کرنے والے بیشتر 194 مقررین نے مشترکہ عالمی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے علاقائی مسائل کے حل کے لیے بین الاقوامی تعاون بڑھانے پر زور دیا

اقوام متحدہ ۔29ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے عمومی مباحثے میںخطاب کرنے والے بیشتر 194 مقررین نے مشترکہ عالمی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے علاقائی مسائل کے حل کے لیے بین الاقوامی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔شنہوا کے مطابق مباحثے میں کثیرالجہتی سفارت کاری، سلامتی کونسل میں اصلاحات اور مصنوعی ذہانت کی ترقی و ممکنہ ضابطہ کاری سمیت مختلف عالمی امور زیر بحث آئے، تاہم کئی مقررین نے اپنے اپنے خطوں کو درپیش مسائل بالخصوص پانی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو اجاگر کیا۔مائیکرونیشیا کے نائب صدر آرن پالک نے کہا کہ ملک میں سمندری حیات سے متعلق بیماریوں اور ویکٹر سے پھیلنے والی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث صحت کے شعبے کی استعداد بڑھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر زور دیا کہ سمندری نظم و نسق، پائیدار ماہی گیری اور سمندری حیاتیاتی تنوع کے مؤثر تحفظ کو مضبوط بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ پلاسٹک کی آلودگی بحرالکاہل کے ماحولیاتی نظام اور وہاں کی آبادیوں کے لیے خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے سیاسی عزم، مالی معاونت اور عملی اقدامات میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔کیپ وردے کے وزیراعظم فرانسسکو کاروالہو نے کہا کہ چھوٹی جزیرہ ریاستوں کے لیے موسمیاتی بحران مستقبل کا نہیں بلکہ موجودہ خطرہ ہے۔ انہوں نے خشک سالی، صحرائی پھیلاؤ، پانی کی قلت، سمندری تیزابیت اور سطح سمندر میں اضافے کو بڑے چیلنجز قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی بحران کے باعث ان ممالک کو سنگین اثرات کا سامنا ہے، حالانکہ ان کا عالمی بحران میں حصہ نسبتاً کم ہے۔تاجکستان کے وزیر خارجہ سراج الدین محریدین نے پانی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پہاڑی ملک اور ہزاروں گلیشیئرز کا حامل ہونے کے باعث تاجکستان پانی کی قدر اور اس کی کمزوری سے بخوبی آگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی تاجکستان کی بین الاقوامی سفارتی سرگرمیوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ رواں سال کے آخر میں ابوظہبی میں اقوام متحدہ کی آبی کانفرنس ہوگی، جس کے بعد 2027 میں نیویارک میں اعلیٰ سطح کا تیاری اجلاس، جبکہ 2028 میں دوشنبہ میں اقوام متحدہ کی آبی کانفرنس اور واٹر ایکشن ڈیکیڈ کا جامع جائزہ لیا جائے گا۔کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز پاریلا نے امریکہ پر کیوبا کے خلاف طویل عرصے سے جاری اقتصادی پابندیوں اور دیگر اقدامات کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جنوری کے بعد صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی جانب سے ایندھن کی فراہمی روکنے اور دیگر اقدامات سے کیوبا کو مشکلات کا سامنا ہے۔