حکومت نے67 ارب روپے کی لاگت سے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے وزیراعظم نیشنل پروگرام شروع کردیا ہے
67 ارب روپے کی لاگت سے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لئے وزیراعظم نیشنل پروگرام کا آغاز

مزید خبریں
اسلام آباد۔29ستمبر (اے پی پی):حکومت نے67 ارب روپے کی لاگت سے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے وزیراعظم نیشنل پروگرام شروع کردیا ہے، جس کے تحت ملک بھر میں بڑے پیمانے پر سکریننگ، تشخیص اور مفت علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ بیماری کی بروقت نشاندہی، جگر کے سنگین امراض سے بچاؤ اور عوام پر اس بیماری کے مالی و سماجی بوجھ میں کمی یقینی بنائی جا سکے۔پروگرام کو مرحلہ وار ملک بھر میں وسعت دی جائے گی۔پلاننگ کمیشن کے مطابق ہیپاٹائٹس سی ایک خاموش بیماری ہے جو اکثر طویل عرصے تک بغیر نمایاں علامات کے انسانی جسم میں موجود رہ سکتی ہے اور بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں جگر کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس چیلنج سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے حکومت پاکستان نے وزیراعظم نیشنل پروگرام برائے خاتمۂ ہیپاٹائٹس سی انفیکشن شروع کیا ہے، جس کا مقصد ملک بھر میں سکریننگ، تشخیص، علاج اور بیماری سے بچاؤ کی سہولیات کو عام کرنا ہے۔وزیراعظم نیشنل پروگرام کے تحت لاکھوں پاکستانیوں کو مفت اور بروقت ہیپاٹائٹس سی سکریننگ، تصدیقی ٹیسٹ اور مؤثر علاج کی سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ پروگرام کے تحت اسلام آباد میں اسکریننگ، تشخیصی اور علاج کی سہولیات کا آغاز کیا جا چکا ہے جبکہ موبائل اسکریننگ کے ذریعے شہریوں تک خدمات کی رسائی بھی بڑھائی جا رہی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق پروگرام کو مرحلہ وار ملک بھر میں وسعت دی جائے گی، جس کے تحت 16 کروڑ 40 لاکھ سے زائد افراد کی اسکریننگ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں ابتدائی مرحلے کے دوران تقریباً 16 لاکھ افراد تک رسائی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ پروگرام کا بنیادی مقصد 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کو عوامی صحت کے بڑے خطرے کے طور پر ختم کرنے کے عالمی ہدف کی جانب پیش رفت کرنا ہے۔حکومت نے سکریننگ اور علاج کی سہولیات کو عوام کے لیے مفت رکھنے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ وفاقی وزیر صحت کے مطابق 12 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کی سکریننگ قومی پروگرام کا اہم حصہ ہے، جبکہ اسلام آباد میں متعدد سرکاری اسکریننگ مراکز فعال ہیں اور نجی شعبے کو بھی مفت سکریننگ کی رسائی بڑھانے کے لیے شامل کیا جا رہا ہے۔ہیپاٹائٹس سی کی بروقت تشخیص اس پروگرام کا بنیادی ستون ہے۔ ماہرین کے مطابق بہت سے متاثرہ افراد اپنی بیماری سے لاعلم رہتے ہیں، جس کے باعث مرض کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب جگر کو نمایاں نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔ بروقت سکریننگ سے متاثرہ افراد کی شناخت، تصدیقی تشخیص اور علاج ممکن بنایا جا سکتا ہے۔حکومت نے ہیپاٹائٹس سی کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے طبی مراکز میں انفیکشن پریوینشن اور ہائی جین پروٹوکولز پر سختی سے عملدرآمد، محفوظ انجیکشن پریکٹس اور غیر معیاری سرنجوں کی روک تھام پر بھی زور دیا ہے۔ وزیراعظم نے تمام متعلقہ اداروں کو بیماری کی روک تھام، تشخیص اور علاج کے لیے مربوط اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔پروگرام صرف بیماری کی تشخیص اور علاج تک محدود نہیں بلکہ عوامی آگاہی، احتیاطی تدابیر اور صحت کے نظام کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ مرکوز کرتا ہے۔ حکومت کے مطابق ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں، صحت کے اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، طبی ماہرین، نجی شعبے اور عوام کے درمیان مؤثر تعاون ضروری ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کا بوجھ نمایاں ہے اور پروگرام کی کامیاب عملدرآمد سے بیماری کے باعث ہونے والی اموات اور نئے انفیکشنز میں نمایاں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔یہ قومی پروگرام اڑان پاکستان کے مساوات، تعلیم، صحت اور آبادی کے ستون سے بھی ہم آہنگ ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی پیغام واضح ہے کہ قومی ترقی صرف انفراسٹرکچر کی تعمیر تک محدود نہیں بلکہ انسانی صحت، زندگی اور مستقبل کے تحفظ کو بھی ترقی کے عمل کا بنیادی حصہ بنانا ضروری ہے۔حکومت نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ہیپاٹائٹس سی کی بروقت اسکریننگ کروائیں، اپنے خاندان کے افراد کو بھی ٹیسٹ کے لیے راغب کریں اور محفوظ طبی و حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل کریں۔بروقت تشخیص، بروقت علاج اور مؤثر احتیاط ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کی بنیاد ہے۔ صحت مند شہری ہی صحت مند، مضبوط اور پائیدار پاکستان کی ضمانت ہیں







