اقوام متحدہ میں پاکستان کا سوڈان میں تشدد کے ذمہ داران کے احتساب کا مطالبہ

اقوام متحدہ۔20فروری (اے پی پی):پاکستان نے سوڈان میں جاری خونریز تنازع کے تیسرے سال میں داخل ہونے کے موقع پر زور دیا ہے کہ بحران کا واحد قابلِ عمل حل بامعنی مذاکرات اور سیاسی عمل کی بحالی ہے۔اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں ۔انہوں …

اقوام متحدہ۔20فروری (اے پی پی):پاکستان نے سوڈان میں جاری خونریز تنازع کے تیسرے سال میں داخل ہونے کے موقع پر زور دیا ہے کہ بحران کا واحد قابلِ عمل حل بامعنی مذاکرات اور سیاسی عمل کی بحالی ہے۔اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں ۔انہوں نے عبوری سوڈانی حکومت کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبے اور کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ سوڈانی عوام طویل عرصے سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ ایک قابلِ اعتماد سیاسی افق بحال کیا جائے۔پاکستانی مندوب نے خاص طور پر دارفور میں ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے مبینہ مظالم کی شدید مذمت کی، جن میں الفاشر اور الجنینہ میں پیش آنے والے واقعات شامل ہیں۔

انہوں نے امن دستوں، اقوامِ متحدہ کے عملے اور انسانی امدادی کارکنوں پر حملوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور ذمہ داران کا احتساب ضروری ہے۔

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے تحت سوڈان کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ ایک متحد سوڈان نہ صرف اس کے عوام بلکہ افریقہ کے قرن، ساحل اور بحیرہ احمر کے خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ لچک اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پائیدار سیاسی تصفیے کی جانب پیش رفت کریں۔انسانی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے متاثرہ علاقوں تک محفوظ اور بلا رکاوٹ امدادی رسائی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا اور عالمی برادری سے انسانی امداد کے لیے فنڈز میں فوری اضافے کی اپیل کی۔