اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم کا جنرل اسمبلی میں ”ثقافت اور امن” کے موضوع پر مباحثہ کے دوران اظہار خیال

نیویارک ۔ 13 دسمبر (اے پی پی) پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کو یکطرفہ اقدام کے ذریعے اپنے ساتھ شامل کرنے، سخت ترین فوجی کرفیو کے نفاذ اور مقبوضہ علاقے میں بڑے پیمانے پر کشمیریوں کی گرفتاریوں اور بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مخاصمانہ کارروائیوں کے نتیجہ میں جنوبی ایشیاء پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان …

نیویارک ۔ 13 دسمبر (اے پی پی) پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کو یکطرفہ اقدام کے ذریعے اپنے ساتھ شامل کرنے، سخت ترین فوجی کرفیو کے نفاذ اور مقبوضہ علاقے میں بڑے پیمانے پر کشمیریوں کی گرفتاریوں اور بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مخاصمانہ کارروائیوں کے نتیجہ میں جنوبی ایشیاء پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بتایا کہ بین الاقوامی برادری کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہئے اور بھارتی اقدامات کو روکنے کیلئے مداخلت کرنی چاہئے۔ جنرل اسمبلی میں ”ثقافت اور امن” کے موضوع پر مباحثہ کے دوران انہوں نے کہاکہ تنازعہ کشمیر پر فریق کی حیثیت سے اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی کشمیر کے بارے میں اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے اور کشمیریوں کے انسانی حقوق بشمول ان کے حق خودارادیت کا تحفظ کرے۔ پاکستان سفیر نے اپنے خطاب کے دوران انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ امریکہ میں11 ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کو عملاً اسلام کے خلاف جنگ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے اور اس سے مسلمان شخصیات، کمیونٹیز کے ساتھ امتیازی سلوک اور پوری اقوام اور اسلامی دنیا میں غیر ملکی تسلط کیلئے ایک جواز بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسے فلسطینی اور کشمیری عوام کے منصفانہ اور ان کے حق خودارادیت سے انکار کیلئے بھی جواز بنایا گیا ہے، اسلامو فوبیا بھی اب تشویشناک حد تک بڑھ گیا ہے اور اس نے بھارت میں ایک سنگین رخ اختیار کر لیا ہے۔ پاکستانی سفیر نے کہا کہ بھارت کی حکمران بھارتی جنتا پارٹی نے راشٹریہ سوامی سیوک سنگ (آر ایس ایس) کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ یہ فاشسٹ تنظیم 100 سال پہلے معرض وجود میں آئی تھی اور اس کے بانی گوالکر نے مسلمانوں اور دیگر بھارتی اقلیتوں کا صفایا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ آر ایس ایس کے پرتشدد جتھے ہٹلر کی طرح کا طرز عمل اپنائے ہوئے ہیں۔ آر ایس ایس کے ایک رکن نے مہاتما گاندھی کا قتل کیا تھا اور 1992ء میں ہندو انتہا پسندوں نے ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کو شہید کیا تھا اور گزشتہ ماہ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی جگہ ہندوئوں کے رام مندر بنانے کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسی سال ممبئی میں ہندو انتہا پسندوں نے ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا اور اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی آر ایس ایس کے تاحیات رکن ہیں اور انہوں نے 2002ء میں ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے 2 ہزار سے زائد مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کا قتل عام کرایا۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کے کئی دیگر علاقوں میں بھی نسل کشی کے منصوبے پر عملدرآمد کرایا جا رہا ہے۔ بھارت کی ریاست آسام میں 20 لاکھ مسلمانوں اور عیسائیوں کو بھارتی شہریت سے محروم کر دیا گیا ہے جبکہ ہزاروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بھارت میں شہریت کی رجسٹریشن کا نیا قانون بنایا گیا ہے جس کی پارلیمنٹ نے منظوری دی ہے جسے شہریت ترمیم بل کا نام دیا گیا ہے جس کے تحت مسلمانوں کے سوا بھارت میں تمام لوگوں کو شہریت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر کو یکطرفہ اقدام کے ذریعے کشمیر کی حیثیت تبدیل کی، ایسا کرنے کے لئے بھارت نے یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر اپنے آئین کی دو شقیں تبدیل کردیں جن کے لئے جموں وکشمیر کو خصوصی اور خودمختار حیثیت حاصل تھی’ بھارت کا اس اقدام کا مقصد مسلم اکثریت ریاست کو ہندو اکثریت علاقہ بنانا ہے۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم میں اضافہ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے مظالم سے توجہ ہٹانے اور پاکستان کے خلاف ایک اور جاریت کا جواز پیدا کرنے کے لئے جعلی فلیگ آپریشن کر سکتا ہے۔پاکستانی سفیر نے کہا کہ بھارت نے نئے نقشے جاری کئے ہیں جن میں مقبوضہ جموں و کشمیر اور آزاد کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھایا گیا ہے۔