اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل برائے سیاسی و قیام امن امور روزمیری ڈی کارلو نے یوکرین میں فوری، مکمل اور غیر مشروط جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور دیا ہے۔شنہوا کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تقریباً پانچ سال سے جاری تنازع کے دوران روس اور یوکرین کے سامنے مزید بڑے پیمانے پر جنگ یا امن کے …
یوکرین میں فوری جنگ بندی کے لیے کوششیں کی جائیں، اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔24ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل برائے سیاسی و قیام امن امور روزمیری ڈی کارلو نے یوکرین میں فوری، مکمل اور غیر مشروط جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور دیا ہے۔شنہوا کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تقریباً پانچ سال سے جاری تنازع کے دوران روس اور یوکرین کے سامنے مزید بڑے پیمانے پر جنگ یا امن کے حصول کے لیے سنجیدہ کوششوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی صورتحال ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔
روزمیری ڈی کارلو نے کہا کہ سفارتی رابطوں کے ساتھ بامعنی کشیدگی میں کمی بھی ضروری ہے، بصورت دیگر شہریوں، خطے اور عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات میں مزید اضافہ ہوگا۔انہوں نے اقوام متحدہ کے اس مطالبے کو دہرایا کہ یوکرین میں فوری، مکمل اور غیر مشروط جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں دوگنا کی جائیں، جو منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کی جانب پہلا قدم ہوگا۔اقوام متحدہ کی عہدیدار نے خبردار کیا کہ یوکرین کا تنازع خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جہاں حملوں میں روز بروز اضافہ، شہری ہلاکتوں میں اضافے، تباہی کے پھیلاؤ اور علاقائی کشیدگی کے خدشات بڑھ رہے ہیں جبکہ اس کے اثرات میدان جنگ سے کہیں آگے تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ فروری 2022 میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے یوکرین میں کم از کم 17 ہزار 257 شہریوں کی ہلاکت اور 53 ہزار 693 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔روزمیری ڈی کارلو کے مطابق روس میں بھی گزشتہ ایک سال کے دوران تنازع کے شہریوں پر اثرات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ روسی حکام کے مطابق جنوری سے اگست کے دوران ملک میں 443 شہری ہلاک اور 2 ہزار 932 زخمی ہوئے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی انسانی قانون واضح ہے کہ شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملے ممنوع ہیں، ایسے حملے ناقابل قبول ہیں اور انہیں فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔






