اقوام متحدہ۔21اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے غزہ میں جنگ بندی کے نئے عزم کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تازہ اسرائیلی حملوں نے پیشرفت کو خطرے میں ڈال دیا ہے تاہم غزہ میں ملبہ ہٹانے اور بحالی کے اقدامات بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیویارک میں معمول کی بریفنگ کے دوران کہا کہ ہمیں اس بات سے حوصلہ …
اقوام متحدہ نے غزہ میں امداد کی فراہمی اور ملبہ ہٹانے کے کام کا دوبارہ آغاز کر دیا

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔21اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے غزہ میں جنگ بندی کے نئے عزم کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تازہ اسرائیلی حملوں نے پیشرفت کو خطرے میں ڈال دیا ہے تاہم غزہ میں ملبہ ہٹانے اور بحالی کے اقدامات بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیویارک میں معمول کی بریفنگ کے دوران کہا کہ ہمیں اس بات سے حوصلہ ملا ہے کہ فریقین نے غزہ میں جنگ بندی پر عملدرآمد کے اپنے عزم کی تجدید کی ہے اور ہم ثالثوں کی مستقل کوششوں کو سراہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم غزہ میں تشدد کے تمام واقعات اور اتوار کو ہونے والے حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ترجمان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو دوبارہ جھڑپوں کا باعث بن سکتا ہے۔
انہوں نے سیکرٹری جنرل کی جانب سے تمام ہلاک شدہ یرغمالیوں کی باقیات کی واپسی کے مطالبے کو بھی دہرایا۔ترجمان کے مطابق اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے ہفتے کے اختتام پر کیرم شالوم (کریم ابو سالم) اور کِسوفیم کراسنگز سے امدادی سامان کی فراہمی جاری رکھی جس میں زچگی اور حفظان صحت کی کٹس، ادویات، ایندھن، پانی اور خوراک شامل تھی۔
انہوں نے بتایا کہ اتوار کے روز پہلی مرتبہ اسرائیلی حکام نے اقوام متحدہ کے مبصرین کو کِسوفیم کراسنگ پر تعینات کرنے کی اجازت دی جو ایک مثبت پیش رفت ہے کیونکہ اس سے امدادی عمل کے اس حصے پر بہتر نگرانی ممکن ہو گی۔ہفتہ کے روز اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے غزہ کا دورہ مکمل کیا جہاں انہوں نے امدادی کارکنوں سے ملاقات کی اور اقوام متحدہ کی زیر نگرانی منصوبوں کا معائنہ کیا جن میں بچوں کی غذائیت کا مرکز، ہسپتال اور سڑکوں کی صفائی کا منصوبہ شامل تھا۔
غزہ شہر میں یو این ڈی پی نے ملبہ ہٹانے کے ایک بڑے آپریشن کا آغاز کر دیا ہے جو ایک جامع ملبہ مینجمنٹ پلان کا پہلا مرحلہ ہے تاکہ ہسپتالوں اور سکولوں تک رسائی دوبارہ ممکن بنائی جا سکے۔یو این ڈی پی کے نمائندے جاکو سیلیئرز نے بتایاکہ غزہ میں ملبہ ایک بڑا چیلنج ہے جس کی مقدار کا تخمینہ 55 سے 60 ملین ٹن لگایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ایجنسی سڑکوں کی صفائی اور مواد کی ری سائیکلنگ کے ذریعے عارضی سہولیات اور نئی رسائی کے راستے تیار کر رہی ہے، کھدائی کی درجنوں مشینیں اور گاڑیاں غزہ کی الجلا اسٹریٹ پر تعینات کی گئی ہیں جہاں یو این ڈی پی چوبیس گھنٹے سڑکوں کی بحالی کے لیے کام کر رہا ہے جو کئی ماہ سے بند تھیں ۔ جاکو سیلیئرز نے متنبہ کیا کہ یہ ایک انتہائی محنت طلب عمل ہے اور اسے مکمل کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے اداروں نے جنگ بندی کے دوران امداد کی ترسیل میں پیشرفت کی اطلاع بھی دی۔یو این آر ڈبلیو اے نے عارضی تعلیمی مراکز کا دائرہ بڑھایا ہے جبکہ شراکت دار اداروں نے دیر البلح اور خان یونس میں خوراک کی تقسیم دوبارہ شروع کر دی ہے۔








