اقوام متحدہ نے کشمیر کے بارے میں بھارت کو بھیجا جانے والا اپنا تیسرا مراسلہ مشتہر کردیا مراسلے میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیاہے

اقوام متحدہ ۔ 9 جولائی (اے پی پی) اقوام متحدہ کے خصوصی مندوبین نے گزشتہ برس پانچ اگست سے بھارت کو بھیجے جانے والے اپنے تیسرے مراسلے کو مشتہر کر دیا ہے جب نریندر مودی کی زیرقیادت فسطائی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کرکے اسکافوجی محاصرے کر لیا تھا۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اقوام متحدہ نے اپنے مراسلے میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے ضرورت سے …

اقوام متحدہ ۔ 9 جولائی (اے پی پی) اقوام متحدہ کے خصوصی مندوبین نے گزشتہ برس پانچ اگست سے بھارت کو بھیجے جانے والے اپنے تیسرے مراسلے کو مشتہر کر دیا ہے جب نریندر مودی کی زیرقیادت فسطائی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کرکے اسکافوجی محاصرے کر لیا تھا۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اقوام متحدہ نے اپنے مراسلے میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال اور گرفتاری اور نظربندی کے دوران کشمیریوں کے ساتھ ناروا سلوک پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔مراسلے میں نریندر مودی حکومت کو لکھا گیا ہم آپ کی حکومت کی توجہ ان معلومات کی طرف دلانا چاہتے ہیں ہیں جو ہمیں 5 اگست 2019 کے بعد عائد سخت پابندیوں کے بعد جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کی مسلسل خرابی کے بارے میں موصول ہوئی ہیں۔ مراصلے میں بلاجواز نظربندیوں ،تشدد کی ممانعت کی خلاف ورزیوں اور اقلیتوں سے وابستہ افراد کے حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاص طور پر حوالہ دیا گیا ہے۔ تشدد، غیر انسانی سلوک، ماورائے عدالت سزائوں ، پھانسیوں اور اقلیتوں سے وابستہ افراد کے حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق اقوام متحدہ کے چار خصوصی مندوبین نے رواں برس چار مئی کو اپنا تیسرا مشترکہ مراسلہ بھارت بھیجا تھا جسے ساٹھ روز کی جوابی مدت گزرجانے کے بعداب حال ہی میں عوام کیلئے مشتہر کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے خصوصی مندوبین نے پہلا مراسلہ گزشتہ برس سولہ اگست جبکہ دوسرا رواں برس 27فروری کو بھارت بھیجا تھا جنکا بھی بھارت نے تاحال کوئی جواب نہیں دیا ہے۔