اقوام متحدہ نےخبردار کیا ہے کہ ڈیجیٹل ماحول میں بچوں اور نوجوانوں کو بڑھتے خطرات کا سامنا ہے جن میں گمراہ کن معلومات، آن لائن ہراسانی، الگورتھمک تعصب اور مصنوعی ذہانت کا بدنیتی پر مبنی استعمال شامل ہے
اقوام متحدہ کا بچوں کو آن لائن معلوماتی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔11اگست (اے پی پی):اقوام متحدہ نےخبردار کیا ہے کہ ڈیجیٹل ماحول میں بچوں اور نوجوانوں کو بڑھتے خطرات کا سامنا ہے جن میں گمراہ کن معلومات، آن لائن ہراسانی، الگورتھمک تعصب اور مصنوعی ذہانت کا بدنیتی پر مبنی استعمال شامل ہے۔اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا جب دنیا بھر میں 15 سے 24 سال کی عمر کے 80 فیصد سے زائد نوجوان انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔عالمی یومِ نوجوانان کے موقع پر جاری کی گئی ایک نئی بریفنگ میں اقوام متحدہ نے نشاندہی کی کہ کم آمدنی والے ممالک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے نوجوانوں کا تناسب باقی آبادی کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔اقوام متحدہ نے حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں، مشتہرین، میڈیا اور محققین پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کے تحفظ کو ترجیح دیں اور معلومات کی سالمیت سے متعلق حل تلاش کرنے کے عمل میں انہیں فعال کریں۔بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ آن لائن نوجوانوں کو درپیش خطرات کا گہرا تعلق ایسے کاروباری ماڈلز سے ہے جو صارفین کی توجہ اور ذاتی معلومات سے آمدنی حاصل کرنے پر انحصار کرتے ہیں، اس کے علاوہ صارفین کی زیادہ سے زیادہ مشغولیت بڑھانے کے لیے تیار کیے گئے ڈیزائن فیچرز اور الگورتھمز بھی ان خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ بچے اور نوجوان ان طریقوں کے لیے خاص طور پر حساس ہیں،مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اس کے خطرات سے نمٹنے کی کوششوں سے مسلسل آگے بڑھ رہی ہے، ان خطرات میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد، استحصال کی نئی شکلیں اور ایسی ہدفی ڈیجیٹل تشہیری حکمتِ عملیاں شامل ہیں جو بچوں کو زیادہ خرچ کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بچوں کے لیے مزید مضبوط حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسی ٹیکنالوجیز کے سامنے نہیں لایا جانا چاہیے جو غیر منظم اور غیر جواب دہ ہوں۔ اقوام متحدہ نے زور دیا کہ نوجوانوں کو محض کمزور یا خطرے سے دوچار طبقے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے کیونکہ وہ مواد تخلیق کرنے والوں، حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں، منتظمین اور عوامی مباحثے میں فعال شرکا کے طور پر اپنا کردار مسلسل بڑھا رہے ہیں۔اقوام متحدہ کی معلومات کی سالمیت سے متعلق سینئر مشیر شارلٹ سکڈن نے کہا کہ بچے اور نوجوان آج کے معلوماتی بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں شامل ہیں اور ساتھ ہی اسے حل کرنے میں مدد دینے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھنے و الے بھی ہیں، ان کا تحفظ اور انہیں فیصلہ سازی میں شامل کرنا ایک دوسرے سے متصادم مقاصد نہیں ۔اقوام متحدہ نے مطالبہ کیا کہ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے حکمرانی کے فریم ورک میں بچوں اور نوجوانوں کے حقوق کو فوری طور پر شامل کیا جائے جبکہ ٹیکنالوجی، اشتہارات، میڈیا اور تحقیق کے شعبوں میں قانون سازی اور کارپوریٹ طریقہ کار کو بھی مضبوط بنایا جائے تاکہ ایک زیادہ محفوظ ڈیجیٹل ماحول یقینی بنایا جا سکے۔







