اقوام متحدہ۔8 مئی (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے کورونا وائرس کے آغاز سے متعلق نفرت انگیز بیانات یعنی ''نفرت کے وائرس '' سے نمٹنے اور روک تھام کے لیے عالمی اپیل کر دی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے گزشتہ روز اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ کورونا وائرس کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ ہم کون ہیں، کہاں …
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کورونا وائرس کے آغاز سے متعلق نفرت انگیز بیانات یعنی ”نفرت کے وائرس ” کی روک تھام کے لیے عالمی اپیل کر دی

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔8 مئی (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے کورونا وائرس کے آغاز سے متعلق نفرت انگیز بیانات یعنی ”نفرت کے وائرس ” سے نمٹنے اور روک تھام کے لیے عالمی اپیل کر دی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے گزشتہ روز اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ کورونا وائرس کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ ہم کون ہیں، کہاں رہتے ہیں، ہمارا یقین یا اختلافات کیا ہیں لہذا ہمیں وائرس سے نمٹنے کے لیے ہر لمحہ اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے لیکن یہ وبائی مرض نفرت اور زینوفوبیا، فرضی قصوروار اور خوف کے سونامی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ اور گلیوں میں غیر ملکیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے، یہودیت پرستی کے خلاف سازشوں اور کورونا وائرس سے متعلق مسلمان مخالف حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، مہاجرین اور پناہ گزینوں کو وائرس کا ذریعہ ہونے سے جوڑا گیا ہے اور پھر طبی علاج تک رسائی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباء کے دوران قابل مذمت میسجز میں بڑی عمر کے افراد کو سب سے زیادہ اخراجات کرنے والا بتایا گیا، صحافیوں،صحت کے حکام، امدادی ورکرز اور انسانی حقوق کے دفاع کاروں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا لہذا اب ہمیں نفرت کے وائرس کے خلاف اپنے معاشروں کی قوت مدافعت کو مضبوط بنانا ہو گا یہی وجہ ہے کہ وہ نفرت انگیز بیانات کے خاتمے کی عالمی اپیل کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے سیاسی رہنمائوں پر زور دیا کہ وہ اپنے معاشرے کے تمام ممبران کے ساتھ اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور معاشرتی ہم آہنگی کو مضبوط بنائیں۔ انہوں نے تعلیمی اداروں پر زور دیا کہ وہ ایسے وقت میں ڈیجیٹل تعلیم پر توجہ دیں جب اربوں نوجوان انٹرنیٹ اور آن لائن موجود ہیں اور ایسے وقت میں جب انتہا پسند افراد قید اور ممکنہ طور پر تنہائی کے شکار لوگوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کے مطابق نسل پرستی، خواتین مخال اور دیگر نقصان دہ مواد کی روک تھام کے لیے کام کریں۔ انہوں نے سول سوسائٹی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ کمزور لوگوں اور مذہبی رہنمائوں تک رسائی کو تقویت دیں تاکہ باہمی احترام کی بنیاد پر کام کر کے مثال قائم کی جائے یہاں تک کہ ہر فرد کو نفرت کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور عزت و احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آیئے مل کر کورونا وائرس اور نفرت پر مبنی بیان بازی کو شکست دیں۔







