اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا انتخاب ،پاکستان نے عالمی اصولوں کے محافظ کے طور پر کردار کو اجاگر کیا

اقوام متحدہ۔9مارچ (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کے اگلے سیکرٹری جنرل کے انتخاب کے عمل کے دوران عالمی اصولوں کے محافظ کے طور پر اقوام متحدہ کے سربراہ کے کردار کو اجاگر کیا ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں اجلاس کے دوران کہا ہے کہ سیکرٹری جنرل کو رکن ممالک کا اعتماد حاصل ہونا چاہیے اور وہ …

اقوام متحدہ۔9مارچ (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کے اگلے سیکرٹری جنرل کے انتخاب کے عمل کے دوران عالمی اصولوں کے محافظ کے طور پر اقوام متحدہ کے سربراہ کے کردار کو اجاگر کیا ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں اجلاس کے دوران کہا ہے کہ سیکرٹری جنرل کو رکن ممالک کا اعتماد حاصل ہونا چاہیے اور وہ کمزور طبقات کی آواز اور عالمی اصولوں کے محافظ کے طور پر کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا انتخاب عالمی ادارے کے لیے نہایت اہم فیصلہ ہوتا ہے کیونکہ یہ عہدہ ادارے کی ساکھ، موثریت اور اخلاقی اختیار پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کے موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کی کی دوسری پانچ سالہ مدت 31 دسمبر 2026 کو ختم ہو جائے گی، جس کے بعد نئے سربراہ کا انتخاب کیا جائے گا۔

اس عہدے کے لیے اب تک 4 امیدوار سامنے آئے ہیں جن میں ارجنٹائن کے رافیل گروسی، جو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ ہیں، چلی کی سابق صدرمشیل بیچلیٹ ،سینیگال کے سابق صدرمیکی سال ،کوسٹا ریکا کی ماہر اقتصادیات ریبیکا گرین سپین جو اقوام متحدہ کے تجارت اور ترقی کی سربراہ ہیں شامل ہیں۔

امیدواروں کے نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ یکم اپریل ہے جبکہ امیدواروں کے ساتھ انٹرایکٹو ڈائیلاگز اپریل کے تیسرے ہفتے میں ہوں گے۔ یہ انتخابی عمل 25 نومبر 2025 کو شروع کیا گیا تھا جس میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے امیدواروں کے وژن سٹیٹمنٹس، انتخابی اخراجات کی تفصیلات اور مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق معلومات کو عوامی بنانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اقوام متحدہ میں پہلی بار خاتون سیکرٹری جنرل کے انتخاب کے لئے کوششیں جاری ہیں کیونکہ گزشتہ تقریباً 80 سال سے یہ عہدہ مردوں کے پاس رہا ہے۔

پاکستانی مندوب عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ میں قیادت کے عہدوں پر خواتین کی زیادہ نمائندگی کی حمایت کرتا ہے اور تمام اعلیٰ تقرریوں میں جغرافیائی توازن، صلاحیت، اہلیت اور دیانت داری کو بنیادی اصول ہونا چاہیے۔پاکستان کے نائب مستقل مندوب نے کہا کہ سیکرٹری جنرل کے انتخاب کا عمل واضح ٹائم لائنز اور شراکتی طریقہ کار کے تحت ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس بات پر زور دیتا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران جنرل اسمبلی کو اپنا کردار مزید مضبوط بناتے رہنا چاہیے تاکہ پورا عمل شفاف، جامع اور رکن ممالک کی قیادت میں جاری رہے۔

پاکستانی مندوب نے حالیہ برسوں میں متعارف کرائی گئی اصلاحات کا خیرمقدم کیا، جن میں امیدواروں کے وژن بیانات، انتخابی مہم کی مالی معاونت کی عوامی تفصیلات، مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق اصول، امیدواروں کے ساتھ انٹرایکٹو ڈائیلاگز اور دیگر شفافیت کے اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی کے کام کو موثر بنانے کی کوششوں سے ٹھوس نتائج سامنے آنے چاہئیں اور اس سے ادارہ جاتی سطح پر اسمبلی کی مضبوطی واضح طور پر نظر آنی چاہیے۔